چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے بیرون ملک جاتے ہوئے ایئرپورٹ پر تلاشی سے استثنا مانگا یا نہیں، اس حوالے سے سپریم کورٹ آف پاکستان نے وضاحت جاری کی ہے۔
چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ اور ان کی اہلیہ کیخلاف بے بنیاد پراپیگنڈا بے نقاب کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے ترجمان کی جانب سے سیکریٹری ہوا بازی سیف انجم اور ڈی جی ایئرپورٹ سیکورٹی میجر جنرل آصف جاہ شاہ کو خط لکھا گیا ہے۔
[visual-link-preview encoded=”eyJ0eXBlIjoiaW50ZXJuYWwiLCJwb3N0IjoxNTg5NjIsInBvc3RfbGFiZWwiOiJQb3N0IDE1ODk2MiAtINuB2YUg2K/YtNmF2YYg2LPbkiDYp9iq2YbbjCDZhtmB2LHYqiDZhtuB24zauiDaqdix2KrbktiMINis2KrZhtuMINii2b7YsyDZhduM2rog2qnYsdiq25Ig24HbjNq62Iwg2KzYs9m52LMg2YHYp9im2LIg2LnbjNiz24zZsCIsInVybCI6IiIsImltYWdlX2lkIjoxNTg5NjMsImltYWdlX3VybCI6Imh0dHBzOi8vbW1uZXdzLnR2L3VyZHUvd3AtY29udGVudC91cGxvYWRzLzIwMjMvMDQvZmFpei1laXNzYS0zMDB4MjUwLmpwZyIsInRpdGxlIjoi24HZhSDYr9i02YXZhiDYs9uSINin2KrZhtuMINmG2YHYsdiqINmG24HbjNq6INqp2LHYqtuS2Iwg2KzYqtmG24wg2KLZvtizINmF24zauiDaqdix2KrbkiDbgduM2rrYjCDYrNiz2bnYsyDZgdin2KbYsiDYuduM2LPbjNmwIiwic3VtbWFyeSI6Itiz2b7YsduM2YUg2qnZiNix2bkg2qnbkiDYs9uM2YbYptixINiq2LHbjNmGINis2Kwg2KzYs9m52LMg2YLYp9i224wg2YHYp9im2LIg2LnbjNiz24zZsCDZhtuSINqp24HYpyDbgduSINqp24Eg2LPZhdis2r4g2YbbgduM2rog2KLYqtinINiv2LTZhdmGINiz25Ig2KfYqtmG24wg2YbZgdix2Kog2YbbgduM2rog2qnYsdiq25Ig2KzYqtmG24wg2KfbjNqpINiv2YjYs9ix25Ig2LPbkiDaqdix2KrbkiDbgduM2rrblCDYotim24zZhiDZvtin2qnYs9iq2KfZhiDaqduMINqv2YjZhNqI2YYg2KzZiNio2YTbjCDYqtmC2LHbjNioINiz25Ig2K7Yt9in2Kgg2YXbjNq6INis2LPZudizINmC2KfYttuMINmB2KfYptiyINi524zYs9uM2bAg2YbbkiDaqduB2Kcg2qnbgSDbgdmF2KfYsdinINmF2YLYtdivINi12LHZgSDZhNmI2q/ZiNq6INqp24wg2K7Yr9mF2Kog24HZiNmG2Kcg2obYp9uB2KbbktiMINi52K/ZhNuM24Eg2qnYpyDaqdin2YUg24HbkiDaqduBINii2KbbjNmGINmIINmC2KfZhtmI2YYg2qnbkiDZhdi32KfYqNmCINis2YTYryDZgduM2LXZhNuSINqp2LHbjNq62Iwg2b7Yp9ix2YTbjNmF2YbZuSDYp9uM2LPbkiDZgtmI2KfZhtuM2YYg2KjZhtin2KbbkiDYrNmIINmE2Yjar9mI2rog2qnbktmE2KbbkiDYqNuB2KrYsSDbgdmI2rog2KfZiNixINin2YbYqti42KfZhduM24Eg2KfZvtmG25Ig2YHYsdin2KbYtiDYsNmF24Eg2K/Yp9ix24wg2LPbkiDYp9mG2KzYp9mFINiv25LblCDCoNuM24Eg2KjavtuMINm+2pHavtuM2ro6INiq2LnZhNmC2KfYqiDaqdinINmG24zYpyDYr9mI2LEg2LTYsdmI2LnYjCDYp9uM2LHYp9mGINin2b7ZhtinINiz2YHYp9ix2KrbjCDZiNmB2K8g2LPYudmI2K/bjCDYudix2Kgg2KjavtuM2KzbkiDar9inLi4uIiwidGVtcGxhdGUiOiJ1c2VfZGVmYXVsdF9mcm9tX3NldHRpbmdzIn0=”]
سیکرٹری ہوا بازی سیف انجم اور ڈی جی ایئر پورٹ سیکورٹی میجر جنرل آصف جاہ شاہ کے نام لکھے گئے خط میں ترجمان سپریم کورٹ کی جانب سے سوال اٹھایا گیا ہے کہ چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ اور انکی اہلیہ کے ترکیہ پہنچنے پر حیرت انگیز طور پر خط میڈیا کو پہنچ گیا، پوری سچائی آشکار کرنے کیلئے رجسٹرار سپریم کورٹ کا اکیس ستمبر کا خط بھی ظاہر کریں تاکہ غلط فہمیوں کا ازالہ ہو۔
سپریم کورٹ کے ترجمان نے کہا کہ جسمانی تلاشی سے استثنیٰ کا قاعدہ نہ ہی سپریم کورٹ نے بنایا نہ ہی مطالبہ کیا، رجسٹرار سپریم کورٹ نے صرف اس فرق کی نشاندہی کی تھی کہ سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ ججز کو جسمانی تلاشی سے استثنا تھا لیکن موجودہ ججز کو نہیں ہے۔
سپریم کورٹ ترجمان نے کہا کہ آپکے خطوط نے یہ تضاد ختم کرتے ہوئے کوئی وضاحت پیش نہیں کی، اے ایس ایف اور نہ ہی حکومت پاکستان کو حفاظتی اقدامات کی خلاف ورزی کی فکر ہے، جو خط 66دن پہلے لکھا گیا تھا حسن اتفاق سے چیف جسٹس پاکستان کے بیرون ملک جانے کے فوری بعد منظر عام پر لایا گیا جبکہ اہل خانہ کیلئے جسمانی تلاشی سے استثنیٰ کے کارڈز ابھی تک وصول نہیں ہوئے۔
سپریم کورٹ ترجمان نے خط میں لکھا کہ سولہ دسمبر کو چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ خود اے ایس ایف کے مخصوص کمرے میں گئیں جہاں ایک خاتون افسر نے انکی تلاشی لی جس کی ایئر پورٹ پر نصب کیمروں سے تصدیق کی جاسکتی ہے جبکہ چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ مسز سرینا عیسیٰ نے تلاشی سے استثنیٰ نہ مانگا نہ ہی دیا گیا۔
سپریم کورٹ ترجمان نے کہا کہ چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کو اسلام آباد ایئرپورٹ پر وی وی آئی پی لاؤنج کی پیشکش کی گئی جسے انھوں نے ٹھکرا دیا اور انہوں نے لگژری لیموزین کے استعمال سے بھی انکار کیا جس کے ذریعے وی وی آئی پی افراد کو عین جہاز تک پہنچایا جاتا ہے۔
رجسٹرار سپریم کورٹ کے جاری کردہ اعلامیہ میں 21 ستمبر کا رجسٹرار کو لکھا گیا خط بھی شامل ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایئرپورٹ پر سابق چیف جسٹس پاکستان اور سپریم کورٹ کے ججز کو جسمانی تلاشی سے استثنیٰ کے سیکورٹی کارڈ جاری کیے گئے، سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس صاحبان اور ریٹائرڈ ججز اور انکی بیویوں کو تلاشی سے استثنیٰ کے کارڈز جاری کیے گئے جبکہ حیرت انگیز طور پر موجودہ چیف جسٹس، سپریم کورٹ کے ججز اور انکی بیویوں کو تلاشی سے استثنیٰ کے کارڈز جاری نہیں ہوئے۔ خط میں سپریم کورٹ کے ترجمان نے امید ظاہر کی کہ معاملے کو جلد حل کیا جائے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








