طالبان رہنما ملا امیر خان متقی کی بیٹی کے بھارت میں زیرِ تعلیم ہونے کا دعویٰ بے بنیاد قرار، سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبر جھوٹی نکلی۔
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہوئی جس میں کہا گیا کہ افغانستان کے وزیرِ خارجہ ملا امیر خان متقی کی بیٹی پروانہ خان متقی بھارت کی سب سے بڑی یونیورسٹی اندرا گاندھی نیشنل اوپن یونیورسٹی نئی دہلی میں زیرِ تعلیم ہیں تاہم تفصیلی تحقیق اور ذرائع کی جانچ پڑتال کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس خبر کی کوئی مصدقہ بنیاد موجود نہیں۔
سنا ہے
افغان وزیر خارجہ ملا امیر خان متقی کی بیٹی
پروانہ خان متقی انڈیا کے سب سے بڑی یونیورسٹی اندرا گاندھی نیشنل اوپن یونیورسٹی ( IGNOU ) نئ دہلی میں زیر تعلیم ہیں۔کیا یہ کھلی منافقت نہی ان اسلام کے ٹھیکیداروں کی🤨@HaidarHashmi0 https://t.co/VEwle7qtCh pic.twitter.com/sr5J7YYZE4
— Zarrar Marwat 🇵🇰 (@Maj_Marwat) October 9, 2025
سوشل میڈیا صارفین نے خود بھی اس دعوے پر شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دستیاب ذرائع میں ایسی کوئی معتبر اطلاع موجود نہیں جو یہ ثابت کرے کہ ملا امیر خان متقی کی بیٹی بھارتی یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم ہے۔
سنا ہے والی بات پوسٹ نہ کریں
کسی کی عزت نہ اچھالیں اگر بات کنفرم بھی ہے تو کیا مسئلہ ہے
ہمارے کتنے عہدیداروں کی بیٹیاں امریکہ میں پڑھتی ہیں وغیرہ ۔۔۔
یہاں تک نہ پہنچیں باقی جو آپ کر رہے ہیں وہی کریں!!
میں اسپیس میں بھی آپ کو سنتا ہوں !!!— A K Awan (@AliAkbar875927) October 9, 2025
متعدد صارفین نے اسے جھوٹا پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے بے بنیاد دعوے پھیلانا ایک سنگین اخلاقی غلطی ہے اور سوشل میڈیا کو جھوٹ کے پرچار کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے۔
ایک صارف نے لکھاکہ پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ سو فیصد فیک خبر ہے۔ دوسری بات یہ کہ پوسٹ کرنے والے کو پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے کہ اپنی اولادیں کیا کر رہی ہیں۔
میں نے دستیاب ذرائع میں تلاش کیا ہے، مگر کوئی معتبر شواہد نہیں ملے جو یہ ثابت کریں کہ افغانستان کے وزیر خارجہ ملا امیر خان متقی کی بیٹی پروانہ خان متقی انڈیا کی انڈرا گاندھی نیشنل اوپن یونیورسٹی (IGNOU), نئی دہلی میں زیرِ تعلیم ہے ۔
جھوٹ کا پرچار کرنا بہت بڑا گناہ ہے ۔— VAKEEL AHMAD KHAN🇵🇰🇨🇦 (@ReadinWakil) October 9, 2025
ایک اور صارف نے کہاکہ یہ ویڈیو کسی عرب ملک کی ٹک ٹاک ویڈیو ہے، جسے غلط رنگ دے کر سوشل میڈیا پر پھیلایا گیا۔
کچھ صارفین نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم افغان بھائیوں کے ساتھ بہتر تعلقات رکھتے تو شاید وہ بھارت کے قریب نہ ہوتے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم نے ان کے ساتھ ہمیشہ سخت رویہ رکھا، اسی وجہ سے وہ دوسروں سے تعلقات بناتے ہیں۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ سو فیصد فیک ہے
دوسری بات یہ ہے کہ شاید پڑھنے کے لیے تو بھیج دیں انڈیا لیکن اس قسم کی حرکتیں کرنے والی ان کی اولاد نہیں ہو سکتی
تیسری بات یہ ہے کہ پوسٹ کرنے والے کو پہلے اپنے گریبانوں میں جھانکنا چاہیے کہ اپنی اولادیں کیا کر رہی ہیں— ڈاکٹر مولانا ذکاءالرحمن سہارنپوری (@SaharanpuriD) October 10, 2025
واضح رہے کہ اب تک نہ تو افغان وزارتِ خارجہ اور نہ ہی بھارت کی کسی سرکاری تعلیمی ادارے نے اس خبر کی تصدیق یا تردید کی ہے تاہم فیکٹ چیک کرنے والے متعدد معتبر ذرائع نے اسے جھوٹا اور من گھڑت قرار دیا ہے۔
اور دلے ادمی یہ ویڈیو ٹک ٹاک کی ہے کسی عرب ملک کی یہ ٹک ٹاک پہ میں نے کل دیکھی تھی کتنے منافق لوگ ہو تم کہاں کی بات کو کہاں پہنچا دیتے ہو
— ikhlaqbaig🇵🇰🇵🇰 (@ikhkaqbaig) October 9, 2025
سوشل میڈیا ماہرین نے عوام سے اپیل کی ہے کہ بغیر تصدیق کے کسی بھی مذہبی یا سیاسی شخصیت سے متعلق خبر یا ویڈیو کو آگے نہ بڑھائیں کیونکہ اس طرح کے بے بنیاد دعوے نہ صرف ساکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ معاشرتی انتشار کا باعث بھی بنتے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








