موسمیاتی تبدیلی اور آغا خان یونیورسٹی کا منفرد کردار

تازہ ترین

تازہ ترین

موسمیاتی تبدیلی اور آغا خان یونیورسٹی کا منفرد کردار
موسمیاتی تبدیلی اور آغا خان یونیورسٹی کا منفرد کردار

موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے سیلاب، طوفان، خوراک کا بحران، ہیٹ ویو اور دیگر مسائل بنی نوع انسان کی بقا کیلئے وبال بنتے جارہے ہیں۔ سابق امریکی صدر باراک اوباما بارہا دنیا کو موسمیاتی تبدیلی کے خطرات سے آگاہ کرتے رہے۔باراک اوباما بار بار کہتے رہے کہ زمین کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے ’بہت ہی شدید‘ اثرات مرتب ہو رہے ہیں، جس میں تباہ کُن طوفان، سخت خشک سالی اور ہر سال سبزہ زاروں میں لگنے والی آگ کے واقعات روز بروز بڑھتے جارہے ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی کسی ایک ملک یا ادارے کا نہیں بلکہ پوری انسانیت کا مسئلہ ہے اور یہ دنیا کی بقا کیلئے چیلنج بنتی موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے باتیں تو بہت کی جاتی ہیں لیکن عملی طور پر اقدامات کا فقدان ہے تاہم ایسے میں آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک ایک نئے انداز کے ساتھ کلائمٹ چینج کے خطرات سے نمٹنے کیلئے اپنی بھرپور کاوشوں اور کوششوں کو بروئے کار لارہا ہے اور سالانہ ایک ملین پودے لگانے کے منصوبے پر زور و شور سے عمل کیا جارہا ہے۔

موسمیاتی تبدیلی کے عالمگیر مسئلے کے پیش نظر صدر آغا خان یونیورسٹی سلیمان شہاب الدین نے حال ہی میں موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے معاونت کاری کے سلسلے میں ایک جامع پالیسی مرتب کی جس کے سبب نہ صرف پاکستان بلکہ آغا خان یونیورسٹی دنیا کے6 ممالک میں موجود اپنے کیمپسز میں بتدریج موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے کام جاری و ساری رکھے ہوئے ہے۔

سلیمان شہاب الدین نے موسمیاتی تبدیلی کیخلاف مہم کا مصمم عہد کررکھا ہے۔ جمعرات 13 جولائی کو بھی صدر آغا خان یونیورسٹی نے اسی سلسلے کی ایک کڑی کی صورت میں ورکشاپ کی صدارت کی اور موسمیاتی تبدیلی کے خلاف جدوجہد کیلئے اپنے ادارے کے احاطے میں پودا لگاکر عملی اقدامات اٹھانے کے علاوہ کئی تقریبات منعقد کیں۔

اس موقع پر تقریب سے خطاب میں سلیمان شہاب الدین نے سابق امریکی صدر باراک اوباما کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی دنیا کیلئے بڑا خطرہ ہے اور ان کا ایک مشہور جملہ کہ ”ہماری پہلی نسل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کا مضر اثر محسوس کرے گی اور یہی وہ آخری نسل ہے جو شاید ہی موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے کام کرسکے“۔

صدر آغا خان یونیورسٹی سلیمان شہاب الدین نے ایک بار پھر اس عزم کو دہرایا کہ پرنس رحیم آغا خان کی پالیسی کے مطابق 2030 تک آغا خان کے تمام ہسپتالوں اور  یونیورسٹیز میں کاربن کو نیٹ صفر تک پہنچائیں گے جو کہ ملک کے دیگر اداروں کیلئے مشعلِ راہ سے کم نہیں اور ملکی پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) کو حاصل کرنے میں بھی معاون ثابت ہوگا۔

صدر اے کے یو، سلیمان شہاب الدین نے یہ بھی کہا کہ آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک کے 95 ہزار ملازمین اور ایک لاکھ سے زیادہ رضا کار سب کے سب موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے اس مشن میں ہمارے سفیر ہیں اور نہ صرف اپنے اداروں بلکہ اپنے گلی محلوں اور اپنے اپنے متعلقہ ملکوں میں اپنا اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے تاکہ موسمیاتی تبدیلی کے مسئلے سے نمٹنے کیلئے قطرہ قطرہ ڈال کر سمندر نما بنادیں اور اس مشکل پر قابو پانے میں معاونت کار بنیں گے۔

پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے گزشتہ کئی برسوں سے اَن گنت مشکلات کا شکار رہا ہے اور اس وقت دنیا کے ہائی رسک 10ممالک میں پاکستان بھی شامل ہے۔گزشتہ چند برسوں کے دوران موسمیاتی تبدیلیوں نے پاکستان کو شدید جانی و مالی نقصان پہنچایا ہے۔ ملک میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے بارش، برف باری اور گرمی کا نظام بری طرح متاثر ہوچکا ہے۔ ملک میں کہیں قحط سالی تو کہیں سیلاب کے خطرات منڈلا رہے ہیں۔

صنعتی دور کے بعد سے دنیا کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کو 1اعشاریہ 5 ڈگری سلسیس کی محفوظ حد تک رکھنے کا ہدف خطرے میں نظر آرہا ہے۔ اس کی وجہ فوسل فیول کا بڑھتا استعمال ہے جس سے خارج ہونے والی زہریلی کاربن ڈائی آکسائیڈ کو عالمی حرارت میں اضافے کا بنیادی سبب قرار دیا جاتا ہے۔

سلیمان شہاب الدین کے اقدامات سےمستقبل میں نہ صرف فضا سے2030تک آغا خان یونیورسٹیز اور اسپتال کے تمام اداروں سے کاربن نیٹ صفر تک پہنچانا ہے بلکہ ہم سب سمیت دنیا میں جہاں جہاں یہ اقدامات اٹھائے جارہے ہیں اس سے اجتماعی کوششوں کے سبب دنیا کے درجہ حرارت میں کمی لانے میں مدد ملے گی۔

گزشتہ برس اقوام متحدہ کے موسمیاتی ماہرین نے دنیا اور انسانوں کو درپیش خطرات کی سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے موسمیاتی اثرات کی جو رپورٹ جاری کی اسے انسانی مصائب کی وجہ قرار دیا گیا تھا۔

اس کے بعد سے یہ دیکھا گیا کہ محض 1اعشاریہ 2 ڈگری درجہ حرارت بڑھنے کی وجہ سے جو دنیا میں موسمیاتی تبدیلیاں سامنے آئیں وہ کس قدر خطرناک ہیں۔ ریکارڈ گرمی کی لہر کے باعث چین سے یورپ تک فصلوں کو نقصان کے علاوہ افریقہ کے کئی انتہائی غیر مستحکم مغربی ممالک میں خشک سالی سے لاکھوں افراد قحط کا شکار ہو گئے۔

اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتریس بھی اس حوالے سے انتباہ جاری کرچکے ہیں کہ انسانیت اور دنیا کو حیاتیاتی تنوع کی بربادی کا بھی سامنا ہے جس سے نمٹنا دنیا کے لیے اس وقت نہایت اہم ہے۔

اقوام متحدہ کے رکن ممالک نے 2030 کے ایجنڈا برائے ترقی پر اتفاق کیا تھا جس میں کرۂ ارض پر امن و خوشحالی کا مشترکہ خاکہ پیش کیا گیا تھا۔ اس کے 17 نکاتی پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) ہیں جو کہ تمام ممالک چاہے وہ ترقی یافتہ ہوں یا ترقی پذیر، سب کے لیے ایک عالمی شراکت داری میں فوری کارروائی کا مطالبہ ہے جس میں موسمیاتی تبدیلی سرفہرست ہے۔

ان اہداف میں غربت اور دیگر محرومیوں کو ختم کرنے کے لیے ایسے لائحۂ عمل کے ساتھ مل کر چلنے پر زور دیا گیا ہے جس کی مدد سے صحت اور تعلیم کو بہتر بنایا جاسکے اور عدم مساوات کو کم کرتے ہوئے اقتصادی ترقی کو فروغ مل سکے۔

تیل اور ایندھن کا کثیر استعمال، گاڑیوں، فیکٹریز اور کارخانوں سے نکلنے والا دھواں، نیوکلیئر پلانٹس سے نکلنے والے تابکار مادے اور جنگلات کی وسیع پیمانے پر کٹائی موسمیاتی تبدیلیوں میں اضافے کی بڑی وجوہات ہیں جس سے سطح سمندر کا بلند ہونا، بے ترتیب بارشیں اور برف باری، فصلوں کی پیداوار میں کمی، سیلاب اور طوفان، گرمی اور سردی کی شدت اور پانی کی قلت کی صورت میں منفی اثرات رونما ہورہے ہیں۔

ان مشکل ترین حالات میں جہاں آغا خان یونیورسٹی کے صدر سلیمان شہاب الدین کی کاوشوں سے ایک نئے باب کا آغاز ہوگیا ہے، دنیا میں اس کام کے ایک بہت مضبوط محرک پرنس رحیم آغا خان ہیں کیونکہ آغاخان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک کے پلیٹ فارم سے موسمیاتی تبدیلی میں نمایاں کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ دیہی علاقوں کی ترقی، تعلیم اور صحت کی سہولیات کی فراہمی ان کے اہم اہداف میں شامل ہے۔

ان کوششوں اور کاوشوں کے سبب پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) کے حصول میں پاکستان سمیت دنیا کے دیگر علاقوں میں  آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک رول ماڈل کا کردار ادا کررہا ہے۔

پاکستان میں گزشتہ سال سیلاب کے بعد پرنس رحیم آغا خان نے آگے بڑھ کر متاثرین کی مدد کا بیڑا اٹھایا اور ایک کروڑ ڈالر امداد کا عطیہ دیا۔ یہی نہیں بلکہ آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک کے کلائمٹ چینج کے رہنما کے طور پر پرنس رحیم آغا خان دنیا کے مختلف ممالک میں موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے خدمات انجام دے رہے ہیں۔

پرنس رحیم آغا خان اس بات کا مکمل ادراک رکھتے ہیں کہ آنے والے برسوں میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سنگین ہوسکتے ہیں۔  درجہ حرارت میں اضافہ اور سمندر کی سطح کا بڑھنا دنیا کیلئے اچھی علامات نہیں ہیں۔چند ماہ قبل دبئی میں پرنس رحیم آغا خان نے ایک بار پھر موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے مل کر کاوشوں کی ضرورت پر زور دیا۔

یہاں یہ بات واضح ہے کہ قدرتی آفات اچانک نہیں آتیں بلکہ ان سے قبل کچھ نشانیاں واضح ہوتی ہیں۔ اگر ہم لوگ ہی ان نشانیوں کو دیکھ کر کچھ نہ کریں یا نظر انداز کر دیں تو یہ ہماری غفلت ہے، اس لیے یہ کہنا ہی بے سود ہے کہ ہم تیار نہیں تھے ۔

اس وقت پاکستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کو موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا ہے، آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک تو اپنی بساط سے بڑھ کر ان چیلنجز سے نمٹنے کیلئے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کررہا ہے تاکہ بنی نوع انسان کیلئے ایسا نمونہ بنایا جائے جو پوری دنیا کیلئے قابلِ تقلید ہو۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر انسان اس مشکل سے نکلنے کیلئے اپنا بساط بھر کردار ادا کرے۔ اگر کوئی ایک پودا لگاسکتا ہے تو چاہے ایک پودا لگائے لیکن لگائے ضرور کیونکہ یہ صرف حکومتوں یا چند اداروں کی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ موسمیاتی تبدیلی کا یہ طوفان ہر انسان کی زندگی کو متاثر کرسکتا ہے، اس لئے مل کر ہی اس آزمائش پر فتح پانا ممکن ہے۔

Related Posts