اسلام آباد اور گرد و نواح میں کلاؤڈ برسٹ کے باعث موسلا دھار بارش ہوئی جس نے وفاقی دارالحکومت کو کئی گھنٹوں کے لیے مفلوج کردیا۔
شہر اقتدار کے مختلف علاقوں میں سڑکیں ندی نالوں کا منظر پیش کرنے لگیں جبکہ نشیبی علاقے زیرِ آب آگئے۔ سوشل میڈیا پر بارش کے دوران بنائی گئی ویڈیوز نے شہریوں کو ہلا کر رکھ دیا جن میں پانی کے تیز بہاؤ اور متاثرہ گاڑیوں کے مناظر دیکھے جاسکتے ہیں۔
ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان میمن نے تمام اسسٹنٹ کمشنرز کو ہدایت دی ہے کہ وہ فیلڈ میں موجود رہ کر نشیبی علاقوں اور برساتی نالوں کی نگرانی کریں۔
انہوں نے ٹریفک پولیس کو بھی ہدایت دی کہ سڑکوں پر پانی جمع ہونے کے باوجود ٹریفک کی روانی کو یقینی بنایا جائے۔ نکاسیٔ آب کے مؤثر انتظام کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے درمیان قریبی رابطہ اور مربوط حکمتِ عملی اختیار کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے پہلے ہی اسلام آباد اور پنجاب کے متعدد اضلاع میں بدھ تک شدید بارشوں کے پیش نظر الرٹ جاری کردیا تھا۔
ادارے کے مطابق لاہور، سیالکوٹ، نارووال، شیخوپورہ، چنیوٹ، سرگودھا، بھکر، میانوالی اور فیصل آباد سمیت پہلے سے متاثرہ علاقوں میں مزید بارشوں سے سیلابی صورتحال شدت اختیار کرسکتی ہے۔
اس کے علاوہ مری، راولپنڈی، جہلم، اٹک، گجرات، گوجرانوالہ، ڈیرہ غازی خان، ساہیوال، ملتان اور جنوبی پنجاب کے کئی اضلاع میں بھی خطرات بڑھنے کا امکان ہے۔
پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے ڈائریکٹر جنرل عرفان علی کاٹھیا نے ہیڈ بالوکی میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ دریائے راوی خطرناک حد تک بلند سطح پر پہنچ چکا ہے اور آئندہ 24 گھنٹوں میں صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے۔
ان کے مطابق پنجاب میں اب تک 33 افراد جاں بحق اور تقریباً 20 لاکھ افراد براہِ راست سیلاب سے متاثر ہوچکے ہیں۔
ضلعی انتظامیہ اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز نے شہریوں کو محتاط رہنے اور غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ کسی بڑے نقصان سے بچا جا سکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








