کراچی: جامعہ اردو میں قائم مقام وائس چانسلر جامعہ اردو ڈاکٹر ضیا القیوم نے ایم فل اور پی ایچ ڈی طلبہ کے وزیر اعظم پورٹل پر شکایات اور وفاقی محتسب سے رجوع کرنے پر نظامت اعلیٰ تعلیم و تحقیق (جی آر ایم سی)کا اجلاس منعقد کیا، جس میں بعض اراکین نے آن لائن شرکت کی ہے،اجلاس کے ایجنڈے میں ایم فل و پی ایچ ڈی داخلوں، طلبہ کو ڈگریاں تقویض کرنے اور رپورٹس کھولنے کے علاوہ دیگر درخواستیں رکھی گئی تھیں۔
جامعہ ارد و میں قائم وائس چانسلر ڈاکٹر ضیا القیوم نے نظامت اعلی تعلیم و تحقیق (جی آر ایم سی)کا 49واں اجلاس 11فروری کو منعقد کیا، جس میں رجسٹرار روبینہ مشتاق،پروفیسر ڈاکٹر زاہد، پروفیسر ڈاکٹر محمد ضیا الدین، پروفیسر ڈاکٹر مسعود مشکور صدیقی، پروفیسر ڈاکٹر زرینہ علی، ڈاکٹر یاسمین سلطانہ، ڈاکٹر نوید قائم خانی، ڈاکٹر مریم سلطانہ اور ڈاکٹر راحت اللہ کے علاوہ محمدحسن شریک ہوئے۔
اجلاس میں لائی گئی تمام درخواستوں کے لئے منع کردیا گیا، جب کہ ایم فل اور پی ایچ ڈی کے داخلوں کے لئے صرف ان ڈپارٹمنٹس کو منظوری دی گئی جہاں 5ایم فل او ر5پی ایچ ڈی داخلے ہوئے ہوں گے، جس کی وجہ سے آئی آر، کمپیوٹر سائنس سمیت دیگر کئی ڈیپارٹمنٹ کے داخلے نہیں ہو سکیں گے، اجلاس میں پہلے 5ایم فل او ر3پی ایچ ڈی کے داخلوں پر بات ہوئی تاہم وائس چانسلر نے 5پانچ کا فارمولہ پیش کرکے اس سے کم والے ڈپارٹمنٹس کے داخلے روک دیئے ہیں۔
اس کے علاوہ نظامت اعلیٰ تعلیم و تحقیق (جی آر ایم سی)میں فیصلہ کیا گیا کہ طلبہ کی رپورٹس کھولنے اور ڈگریاں ایوارڈ کرنے لئے دو کمیٹیاں قائم کردی جائیں تاکہ وہ طلبہ کی رپورٹس کھول کر کارروائی کو آگے بڑھائیں او ر دوسری کمیٹی ڈگریاں جاری کرے،پروفیسرڈاکٹر ضیا الدین کی سربراہی میں بننے والی کمیٹی ڈگریاں ایوارڈکرے گی،جس میں ڈاکٹر زرینہ علی کو شامل کیا گیا ہے جو منگل سے کام شروع کریں گے۔
نظامت اعلیٰ تعلیم و تحقیق (جی آر ایم سی)میں بننے والی دوسری کمیٹی کا سربراہ پروفیسر ڈاکٹر مسعود مشکور کو بنایا گیا ہے جو پیر سے رپورٹس کھولیں گے اور ان کی کمیٹی میں یاسمین سلطانہ کو شامل کیا گیا ہے۔معلوم رہے کہ جامعہ اردو کے اساتذہ نے 10فروری کو قائم مقام وائس چانسلر سے ملاقات کی تھی جس میں ڈاکٹر ضیا القیوم نے انہیں کسی بھی قسم کا اجلاس بلانے سے معذوری ظاہر کی تھی، جس کے بعد اگلے ہی ردز 11فروری کی سہ پیرساڑھے 3بجے جی آر ایم سی کا اجلاس منعقد کرلیا تھا۔
معلوم رہے کہ ڈپٹی ڈائریکٹر ایوان صدر ہاؤس احمد نواز چوہان کے دستخط سے جاری ہونے والے اجلاس کے منٹس کے مطابق وائس چانسلر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ڈاکٹر ضیا القیوم جامعہ اُردو کے قائم مقام وائس چانسلر کا اضافی چارج دے دیا گیا تھا، جو کم از کم ہفتہ میں دو روز کراچی جاکر اپنے خدمات انجام دیں گے، اس دوران کسی اسٹیچوری باڈی کا اجلاس نہیں ہو گا،سلیکشن بورڈ کا اجلاس نہیں بلایا جائے گا اور نہ ہی بجٹ میں کسی قسم کی تبدیلی کی جائے گی۔
تاہم اس کے برعکس ڈاکٹر ضیا القیوم نے جامعہ اردوکراچی گلشن کیمپس میں انچارج کیمپس اور اسلام آباد میں اسسٹنٹ رجسٹرار کی تقرری کی، اس کے علاوہ جی آر ایم سی اجلاس بھی منعقد کیا ہے جبکہ مالی معاملات چلاتے ہوئے 100کمپیوٹر اور 1000کرسیا ں خریدنے کا ٹینڈر بھی جاری کیا گیا ہے، تاہم ٹینڈر میں دو ہی بولی دہندگان کی وجہ سے ٹینڈر نہیں کھولے جاسکے۔
ذرائع کا کہناہے کہ خود وائس چانسلر بھی تعیناتی اور لگائی جانے والی پابندیوں کی وجہ سے کوئی اجلاس بلانے یا دیگر معاملات چلانے میں دلچسپی نہیں رکھتے تاہم طلبہ و طالبات کی وجہ سے جی آر ایم سی اجلاس بلانا ناگزیر تھا، جس کہ بڑھتے ہوئے داخلوں کی وجہ سے کرسیوں کی خریداری اور جدید دور میں پرانے کمپیوٹر سے چھٹکارا اور نئی ٹیکنالوجیز کے حامل کمپیوٹرخریدنا بھی ضروری ہیں۔