جامعہ عروۃ الوثقیٰ لاہور میں ’’حرمت محرم کانفرنس” منعقد ہوئی، جس کی صدارت علامہ سید جواد نقوی نے کی۔
کانفرنس میں پیر خواجہ معین الدین کوریجہ، پیر سید شمس الرحمن مشہدی آستانہ عالیہ حسین آباد شریف، علامہ سید ضیاء اللہ شاہ بخاری امیر متحدہ جمعیت اہل حدیث پاکستان، صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر صدر ملی یکجہتی کونسل پاکستان، علامہ مفتی راغب نعیمی ناظم اعلیٰ جامعہ نعیمیہ لاہور، جاوید قصوری امیر جماعت اسلامی پنجاب، جسٹس (ر) نذیر احمد غازی اینکر پرسن، پیر غلام رسول اویسی آستانہ عالیہ علی پور چٹھہ سمیت دیگر علمائے کرام، خطبا عظام اور ملک بھر سے نمایاں شیعہ سنی شخصیات شریک ہوئیں۔
یہ بھی پڑھیں:
گرمیوں میں پھلوں کے بادشاہ آم کی طرح خوش ذائقہ مینگو کیک کا لطف اٹھائیے
کانفرنس سے صدارتی خطاب میں علامہ سید جواد نقوی نے سویڈین، گستاخ یورپی حکومتوں اور صہیونی دشمن کے ہاتھوں مسلمانوں کے مقدسات کی مسلسل بیحرمتی، بھارت میں سفاک مودی حکومت اور متشدد ہندو جتھوں کی اسلام اور مسلمانوں کے مقدسات کی بے حرمتی اور سوشل میڈیا پر فرقہ باز عناصر کی جانب سے بےحرمتی کے نہ ختم ہونیوالے سلسلے کی مذمت کی اور ان کیخلاف علماء کرام کو اپنی جدوجہد کو تیز تر کرنے پر تاکید کی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ کانفرنس کا مقصد جہاں حرمت دین و اتحاد امت کا ابلاغ ہے وہیں پیغام امام حسین کا احیاء بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت میدان میں صرف دو ہی طقبے ہیں، ایک کاروباری ہے اور دوسرا مقصدیت کا قائل ہے۔
انہوں نے تمام مسالک کے ذمہ داروں کو تاکید کی کہ ایسے اقدامات کریں کہ اسٹیج کو سوداگروں کے حوالے نہ کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے دشمنوں نے پاکستان کیلئے یہی منصوبہ بنایا ہے کہ ان کے اندر مذہبی منافرت پیدا ہو تاکہ آپس میں ایک دوسرے کو ختم کریں، اس مقصد کیلئے ایم آئی سکس کا لشکر تیار کیا جا رہا ہے، جن کا ہدف ہی دل آزاری، نفرت اور جنگ ہے۔
انہوں نے کہا کہ احترام محرم کا تقاضا یہ ہے کہ مقصد امام حسین کو آنیوالی نسلوں تک پہنچایا جائے۔ چونکہ امام حسین کا پیغام شیعہ کیلئے نہیں تھا، بلکہ شیعہ سنی اور غیر مسلموں کیلئے بھی ہے، اس پیغام کو لازمی ہر فرد تک پہچنا چاہئے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








