کراچی :نارتھ کراچی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے صدر فیصل معیز خان نے پورٹ قاسم بندرگاہ پر برآمدی و درآمدی کنسائمنٹس کی ہیڈلنگ کے غیر تسلی بخش انتظامات اور بندرگاہ پر کنٹینرز اتارتے وقت ٹرمینل آپریٹرز کی جانب سے مسلسل تاخیری حربے استعمال کرنے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے لوکل گڈز ٹرانسپورٹرز کے احتجاج کے پیش نظر برآمدی ودرآمدی مال کی ترسیل شدید متاثر ہونے کے خدشات ظاہر کیے ہیں اور وزیر پورٹ اینڈ شپنگ علی زیدی سے درخواست کی ہے کہ وہ لوکل گڈز ٹرانسپورٹرز کے مطالبات کا جائزہ لیتے ہوئے معاملے کو فوری حل کریں تاکہ برآمدی و درآمدی کنسائمنٹس کی ترسیل بلا رکاوٹ ممکن بنائی جاسکے۔
بدھ کو جاری ایک بیان میں فیصل معیز خان نے وزیر پورٹ اینڈ شپنگ علی زیدی دکی توجہ گڈز ٹرانسپورٹرکے جاری احتجاج اور منگل 17نومبر2020 سے احتجاجاً گاڑیاں کھڑی کرنے کی دھمکی کی طرف مبذول کرواتے ہوئے کہاکہ پورٹ قاسم روڈ پر ٹریفک جام رہنا معمول بن گیا ہے ۔
ٹرمینل آپریٹرز کی جانب سے جان بوجھ کر تاخیری حربوں کے وجہ سے ٹرمینل پر کنٹینرز اتارنے میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اس کے نتیجے میں ڈیمرج لگ جاتا ہے جس کا نوٹس لینا انتہائی ضروری ہے۔
نکاٹی کے صدر نے مزید کہاکہ گڈز ٹرانسپورٹرزکی اس شکایت کا بھی نوٹس لیا جائے جس میں انہوں نے نشاندہی کی ہے کہ کسٹمز اہلکار گاڑیوں سے مال اتارنے کی بجائے گاڑیوں کے اوپر ہی ایگزامینشن کو ترجیح دیتے ہیں حالانکہ کنٹینرز اتارنے کی ای امیل اور لیٹر موجود ہوتا ہے مگر بار بار شکایت کرنے کے باجود اس مسئلے کو حل نہیں کیا گیا۔
فیصل معیز خان نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر ٹرانسپورٹر زکا احتجاج جاری رہا اور انہوںنے اپنی گاڑیاں کھڑی کردیں تو برآمدی ودرآمدی کنسائمنٹس کی ترسیل رک جائے گی جس کی وجہ سے ایک بڑا گیپ پیدا ہوگا لہٰذا وزیرپورٹ اینڈ شپنگ علی زیدی ترجیحی بنیادوں پر لوکل گڈز ٹرانسپورٹرز کے ساتھ مذکرات کرکے اس مسئلے کو حل کریں تاکہ برآمدی ودرآمدی کنسائمنٹس کی ترسیل بلارکاوٹ ممکن بنائی جاسکے اور بروقت غیر ملکی آرڈرز کی ڈیلیوری دینے کے ساتھ ساتھ مقامی صنعتوں کو بھی بروقت خام مال مسیر آسکے۔