کراچی: ادارہ شماریات پاکستان نے کہا ہے کہ پاکستانی عوام کو اپنی صحت کے بجائے کپڑوں اور جوتوں کی زیادہ فکر ہوتی ہے اور شہری صحت کے مقابلے میں زیادہ آمدنی جوتوں پرخرچ کرتے ہیں۔
ادارہ شماریات پاکستان کی گزشتہ 18 سال کے اعداد و شمار پر مشتمل رپورٹ کے مطابق اسکول نہ جانے والے بچوں کی شرح کم ہوئی ہے اورپاکستان میں شرح خواندگی بھی بڑھ گئی ہے ۔
پاکستان میں میٹرک تک تعلیم کی شرح 27 فی صد ہے اورموبائل اور اسمارٹ فون رکھنے والوں کی شرح 45 فیصد ،گھر میں کمپیوٹر، لیب ٹاپ اور ٹیب رکھنے والوں کی شرح 14 فیصد اوراور 34 فی صد گھروں میں انٹرنیٹ کی سہولت موجود ہے۔
ملک میں ایک گھرانے کی اوسط ماہانہ آمدن 41 ہزار 545 اوراخراجات 37 ہزار 159 روپے ہیں ، دلچسپ بات تو یہ ہے کہ ‘پاکستانی کپڑوں اورجوتوں پر اپنی آمدن کا 7اعشاریہ 5 جبکہ صحت پر 3اعشاریہ 2 فیصد خرچ کرتے ہیں۔
پاکستانی اپنی آمدن کا 36اعشاریہ 1 فی صد کھانے پینے کی اشیاء اور23اعشاریہ 8 فیصد آمدن گھر کے کرائے، بجلی،گیس سمیت فیول پر خرچ کرتے ہیں،ایک خاتون کے بچوں کی اوسط تعداد 3اعشاریہ 7 ہے اوربچوں کی شرح اموات ایک ہزار میں 60 ہے۔