عالمی مارکیٹ میں خام کی کی قیمتوں میں مسلسل کمی نے سرمایہ کاروں اور ماہرین کو چونکا دیا ہے۔ اس اچانک تبدیلی کے پیچھے مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور ممکنہ امن معاہدے کی خبریں اہم کردار ادا کر رہی ہیں جس نے عالمی مارکیٹ کا رخ بدل کر رکھ دیا ہے۔
عالمی منڈی میں بدھ کے روز تیل کی قیمتوں میں مسلسل دوسرے دن کمی دیکھنے میں آئی کیونکہ یہ توقع زور پکڑ رہی ہے کہ مشرق وسطیٰ کے اہم پیداواری علاقے سے رکی ہوئی سپلائی دوبارہ بحال ہو سکتی ہے۔ یہ امکان اس وقت بڑھا جب امریکی صدر ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے خاتمے کیلئے ممکنہ امن معاہدہ طے پا سکتا ہے۔
عالمی منڈی میں جولائی کیلئے برینٹ کروڈ کے سودے 1.52 ڈالر یا 1.38 فیصد کمی کے بعد 108.35 ڈالر فی بیرل تک آ گئے جبکہ اس سے قبل سیشن میں بھی تقریباً 4 فیصد کی گراوٹ ریکارڈ کی گئی تھی۔ اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کے جون کے معاہدے 1.50 ڈالر یا 1.47 فیصد کم ہو کر 100.77 ڈالر تک پہنچ گئے جو ایک روز پہلے 3.9 فیصد نیچے بند ہوئے تھے۔
منگل کو ایک غیر متوقع بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے جاری آپریشن کو عارضی طور پر روک دیا جائے گا۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ ایران کے ساتھ ایک جامع معاہدے کی جانب پیش رفت کے باعث کیا گیا تاہم انہوں نے اس معاہدے کی تفصیلات نہیں بتائیں۔
ایران کے دارالحکومت تہران سے اس اعلان پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا کیونکہ وہاں بدھ کی صبح کے ابتدائی اوقات تھے تاہم ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکی بحریہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی برقرار رکھے گی۔
آبنائے ہرمز جہاں سے دنیا کے تیل اور قدرتی گیس کی تقریباً پانچویں حصے کے برابر ترسیل ہوتی ہے 28 فروری کو ایران کے خلاف امریکی و اسرائیلی کارروائیوں کے آغاز کے بعد سے شدید متاثر رہی ہے۔
عالمی مارکیٹ میں سپلائی کی کمی نے قیمتوں کو اوپر کی جانب دھکیلا اور گزشتہ ہفتے برینٹ کروڈ مارچ 2022 کے بعد بلند ترین سطح تک پہنچ گیا تھا۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ باہمی اتفاق سے یہ طے پایا ہے کہ اگرچہ ناکہ بندی پوری طرح برقرار رہے گی تاہم پروجیکٹ فریڈم کو کچھ وقت کیلئے روک کر یہ دیکھا جائے گا کہ آیا معاہدے کو حتمی شکل دے کر اس پر دستخط کیے جا سکتے ہیں یا نہیں۔
یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب چند گھنٹے قبل امریکی وزیر خارجہ نے صحافیوں کو اس مشن پر بریفنگ دی تھی جس کا مقصد آبنائے میں پھنسے آئل ٹینکرز کو بحفاظت نکالنا تھا۔ پیر کو امریکی فوج نے بتایا کہ اس نے کئی ایرانی چھوٹی کشتیوں، کروز میزائلوں اور ڈرونز کو تباہ کیا جبکہ دو جہازوں کو خلیج سے نکال کر آبنائے کے راستے گزارا گیا۔
آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی ذخائر میں کمی واقع ہو رہی ہے کیونکہ ریفائنریز سپلائی کے خلا کو پورا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔منگل کو مارکیٹ ذرائع نے امریکی پیٹرولیم انسٹیوٹ کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ امریکی خام تیل کے ذخائر مسلسل تیسرے ہفتے کم ہوئے ہیں جبکہ پٹرول اور دیگر مصنوعات کے ذخائر میں بھی کمی دیکھی گئی۔
ذرائع کے مطابق یکم مئی کو ختم ہونے والے ہفتے میں خام تیل کے ذخائر 8.1 ملین بیرل کم ہوئے جبکہ پٹرول کے ذخائر میں 6.1 ملین بیرل اور ڈیزل سمیت دیگر مصنوعات میں 4.6 ملین بیرل کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








