پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نے بدھ کے روز مثبت رجحان دیکھا جا رہا ہے جہاں بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ ابتدائی گھنٹوں میں انڈیکس 3,220.83 پوائنٹس یعنی 1.92 فیصد اضافے کے ساتھ 167,963.30 کی سطح تک پہنچ گیا۔
یہ مثبت رجحان عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں وقتی نرمی کے باعث سامنے آیا جس نے کئی ہفتوں کی غیر یقینی صورتحال کے بعد سرمایہ کاروں کے اعتماد کو سہارا دیا۔
مارکیٹ میں مجموعی طور پر مثبت ماحول ہے جہاں 284 کمپنیوں کے شیئرز میں اضافہ ہوا جبکہ صرف 16 میں کمی دیکھی گئی اور 260 کمپنیوں کے شیئرز بغیر تبدیلی کے رہے۔ اس دوران تجارتی سرگرمی بھی خاصی تیز رہی جس میں 39.6 ملین شیئرز کے سودے 1.88 ارب روپے کی مالیت کے ساتھ 16,341 ٹرانزیکشنز میں مکمل ہوئے۔
اہم مارکیٹ انڈیکسز نے بھی مضبوط کارکردگی دکھائی۔ آل شیئر انڈیکس 1.83 فیصد بڑھ کر 100,427.09 پر پہنچ گیا جبکہ کے ایس ای-30 انڈیکس 2.10 فیصد اضافے کے ساتھ 50,552.26 تک جا پہنچا۔ اسی طرح کے ایم آئی-30 انڈیکس میں 2.08 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور یہ 241,588.09 کی سطح پر بند ہوا۔ بینکنگ انڈیکس (BKTI) بھی 1.95 فیصد اوپر گیا، جو مالیاتی شعبے میں مضبوطی کی عکاسی کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق مارکیٹ میں یہ تیزی بنیادی طور پر سستے شیئرز کی خریداری اور توانائی کی قیمتوں میں کمی کے باعث مہنگائی کے دباؤ میں نرمی کی وجہ سے دیکھنے میں آئی۔ ایک بروکریج رپورٹ میں کہا گیا کہ خلیجی خطے میں حالات کی بہتری اور تیل کی قیمتوں میں کمی نے سرمایہ کاروں کو ریلیف دیا ہے، جس کا اثر وسیع پیمانے پر مثبت رجحان کی صورت میں سامنے آیا۔
تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اس تیزی کا تسلسل بیرونی مالی معاونت کی وضاحت اور آئی ایم ایف کے آئندہ جائزے میں سامنے آنے والے پالیسی اشاروں پر منحصر ہوگا۔ فی الحال یہ تیز رفتار اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جغرافیائی سیاسی دباؤ میں کمی اور کموڈیٹی قیمتوں میں نرمی کے ساتھ مارکیٹ کا مزاج تیزی سے بدل سکتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








