وزیراعلیٰ سندھ کی زیر صدارت کورونا وائرس ٹاسک فورس کے اجلاس کا انعقاد

تازہ ترین

تازہ ترین

وزیراعلیٰ سندھ کی زیر صدارت کورونا وائرس ٹاسک فورس کے اجلاس کا انعقاد
وزیراعلیٰ سندھ کی زیر صدارت کورونا وائرس ٹاسک فورس کے اجلاس کا انعقاد

کراچی: صوبہ سندھ میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد 676 ہوگئی جس میں کراچی میں 274 اور مقامی ٹرانسمیشن کے 338 شامل ہیں جو مجموعی تعداد کا 50 فیصد ہیں۔ یہ بات وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت یہاں وزیراعلیٰ ہاؤس میں کورونا وائرس ٹاسک فورس کے اجلاس میں سامنے آئی۔

اجلاس میں صوبائی وزراء سید ناصر شاہ، ڈاکٹر عذرا پیچوہو، سعید غنی، امتیاز شیخ، مشیر مرتضیٰ وہاب، وزیراعلیٰ سندھ کے کوآرڈینیٹر حارث گذدر، چیف سیکرٹری ممتاز شاہ، ڈی جی رینجرز میجر جنرل عمر بخاری، آئی جی سندھ مشتاق مہر، کور 5 کے بریگیڈیئر سمیع، سیکریٹری داخلہ عثمان چاچڑ، انڈس اسپتال کے ڈاکٹر باری اور آغا خان کے ڈاکٹر فیصل، محکمہ صحت کے فوکل پرسن زاہد عباسی نے شرکت کی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ اب تک 6578 نمونوں کی جانچ کی گئی ہے ان میں سے 5742 منفی اور 676 مثبت پائے گئے۔ (شام 4.30 بجے تک) 676 کیسز میں سے 373 کراچی میں، 265 سکھر میں، ایک دادو میں، حیدرآباد میں 128، لاڑکانہ میں 7، جامشورو میں 2 اور جیکب آباد میں ایک کیس رپورٹ ہوا ہے۔

صوبے میں مقامی منتقلی کے 343 کیسز ریکارڈ کئے گئے ہیں اور 63 کیسز میں سفری تاریخ ہے۔ اس وقت 229 افراد گھروں میں آئسولیشن میں ہیں‘سفری تاریخ اور مقامی منتقلی کے 27 مریض صحتیاب ہوگئے ہیں۔ 23 زائرین بھی صحتیاب ہوچکے ہیں اور 8 اموات ہوچکی ہیں۔

جبکہ 47 افراد کراچی کے مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں اور دیگر 93 حیدرآباد میں زیر علاج ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ 276 کیسز میں سے مقامی منتقلی کے کیسز کی تعداد 338 ہے جو تشخیص کردہ کیسز کا 50 فیصد بنتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقامی منتقلی کی شرح میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ کو یہ بھی بتایا گیا کہ سرکاری اسپتالوں میں نمونیا کے 1874 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، ان میں سے 124 کے کورونا کے ٹیسٹ کیے گئے اور نجی اسپتالوں میں 702 کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔

اور ان میں سے 27 کے ٹیسٹ کئے گئے ہیں۔ حکومت نمونیا کے شدید کیسز پر توجہ دے رہی ہے تاکہ وائرس کے کیسز کا پتہ لگایا جاسکے۔ سندھ حکومت نے 57562 افراد کی اسکریننگ کی ہے ان میں سے 6578 مشتبہ افراد ہیں اور محکمہ صحت نے ان 6578 مشتبہ افراد کے نمونے لئے ہیں ان میں سے 676 کے ٹیسٹ کے نتائج مثبت آئے ہیں جبکہ 160 کے نتائج کا انتظار ہے۔

وزیر اعظم کا اجلاس

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ویڈیو لنک کے ذریعے کورونا وائرس کے کیسز پر وزیراعظم کے اجلاس میں بھی حصہ لیا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ اگر وفاقی حکومت فلائٹ آپریشن شروع کررہی ہے تو اسے ایئرپورٹ پر ہر ایک مسافر کی تشخیص کیلئے ایس او پی تیار کرنا ہوگی۔

قرنطینہ کیلئے ضروری انتظامات بھی کرنا ہوں گے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے اس تاثر کو رد کیا کہ انہوں نے سامان کی آمدورفت پر بھی پابندی عائد کردی ہے۔ انہوں نے کہا نہیں بالکل نہیں، لاک ڈاؤن کے عرصے کے دوران اشیاء کی ٹرانسپورٹ کا آپریشن جاری رہاہے۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ وہ پہلے سے ہی فوڈ سیکیورٹی کیلئے تمام تر ضروری اقدامات کر چکے ہیں۔

انہوں نے کہا محکمہ خوراک سندھ نے گذشتہ پیر سے گندم کی خریداری شروع کردی ہے اور ہم نے 1.4 ملین ٹن گندم کی خریداری کا ہدف مقرر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادویات اور کھانے پینے کی اشیاء سے متعلق کاروبار اور صنعتوں کا کام جاری ہے۔

انہوں نے کہا ہاں، کچھ مشکلات ضرور ہیں کیونکہ ہم ایک غیر معمولی صورتحال سے گزر رہے ہیں لیکن ساتھ ہی جب اور جیسے مسائل کی نشاندہی ہوتی ہے ہم ان مسائل کو حل بھی کررہے ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے 14 اپریل تک لاک ڈاؤن جاری رکھنے کی تجویز کی حمایت کی ہے۔

Related Posts