کراچی:لاک ڈاؤن سے متاثرہ روزانہ اجرت کمانے والوں کوراشن کی فراہمی کے لیے حکومت سندھ کی 58 کروڑروپے کی مالی امدادغریبوں کی داد رسی یا زخموں پرنمک پاشی،صوبے کی 5 کروڑآبادی اور 1486 یونین کونسلزمیں صرف 2 لاکھ افراد کو امداد مل سکے گی۔
حکومت سندھ کی طرف سے ڈپٹی کمشنرزکو ہریوسی میں صرف 150 افراد کوراشن کی فراہمی کی ہدایت کے بعد حکومتی امدادی پروگرام کی قلعی کھل گئی ہے۔
کورونا وائرس لاک ڈاؤن کی وجہ سے پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حکومت سندھ کوصوبے کے ہرمستحق کوبھوکا نہ سونے دینے کی ہدایت کے ساتھ لاک ڈاؤن سے متاثر غریب محنت کش،روزانہ اجرت کمانے والوں کوراشن کی فراہمی کی ہدایت کی ہے۔
مگردوسری جانب حکومت سندھ کی جانب سے مستحق لوگوں کوراشن کی فراہمی کے لیے جاری 58 کروڑروپے اورصوبے کی ہریوسی میں صرف 150 افراد کوراشن فراہمی کے حکم کے بعد حکومتی سطح پرامداد کی فراہمی کی قلعی کھل گئی ہے۔
معتمد ترین سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے سندھ کی ہریوسی میں 150 مستحق افراد کوڈپٹی کمشنرزکی تشکیل کردہ کمیٹیوں کے ذریعہ راشن فراہم کیا جائے گا تاہم حکومت کایہ فیصلہ پونے پانچ کروڑکی آبادی پرمشتمل صوبہ سندھ میں کم وبیش 1 کروڑسے زائد مستحق خاندانوں کے لیے آٹے میں نمک جتنا بھی نہیں ہے۔
حکومت سندھ کی جانب سے راشن کی تقسیم کے لیے جاری کیے جانے والے 58کروڑروپے ہریونین کونسل میں 150 افراد کی مناسبت سے تقسیم کیے جائیں تو سندھ کی 1486 یونین کونسلزمیں صرف 2 لاکھ 22ہزار 9 سو افراد کو فی کس26 سو 2روپے امداد مل سکے گی۔
عوامی حلقوں نے حکومت سندھ کی جانب سے لاک ڈاؤن سے متاثرخاندانوں میں راشن کی تقسیم کونمائشی فیصلہ قراردیتے ہوئے کہاہے کہ مہنگائی کے اس دورمیں یہ امداد لوگوں کے زخموں پرنمک پاشی کے مترادف ہے۔ واضح رہے کہ وزیراعلی سندھ نے صوبے میں روزانہ اجرت کمانے والوں کی تعداد ایک کروڑبتائی ہے۔