بدعنوانی کو اگر ام الخبائث کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کیونکہ کرپشن کی کوکھ سے بے بہا برائیاں جنم لیتی ہیں،پاکستان کی معیشت کی بدحالی اور معاشرے کی تباہی کی وجہ بھی کرپشن ہے،پاکستان میں اگرچہ کرپشن کے سدباب کے لئے باقاعدہ سرکاری ادارے قائم ہیں مگر ان اداروں کے اندر بھی بدعنوانی سرایت کرچکی ہے جس کی بڑی وجہ سیاسی مداخلت ہے۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے اپنی حالیہ رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان میں کرپشن میں مزید اضافہ ہوگیا ہے تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں مالی بدعنوانی کا ذکر نہیں جبکہ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹ حکومت کیخلاف چارج شیٹ ہے۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان بنیادی طور پر ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی ایک قومی برانچ کہی جاسکتی ہے، یہ ایک سول سوسائٹی کی تنظیم ہے جو عالمی اور قومی دونوں طرح کی بدعنوانی کو روکنے کے لیے وقف ہے اس کا بنیادی مقصد قومی وکاروباری معاملات میں بدعنوانی کا احاطہ کرنا ہے۔
ٹرانسپیرنسی رپورٹ
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے 180 ممالک کا کرپشن پرسیپشن انڈیکس جاری کیا ہے جس کے مطابق پاکستان کرپشن رینکنگ میں 16 درجے اوپر چلا گیا اور کرپشن پرسیپشن انڈیکس میں پاکستان دنیا میں 140ویں نمبر پرآگیا ہے۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ 2020 میں پاکستان کا دنیا میں نمبر 124واں تھا اور 2020 میں کرپشن پرسیپشن انڈیکس میں پاکستان کا گزشتہ سال اسکور 31 تھا جب کہ 2021 میں پاکستان کا کرپشن پرسیپشن انڈیکس کا اسکور 28 ہوگیا۔ کرپشن پرسیپشن انڈیکس میں پاکستان کے اسکور میں تین پوائنٹس کی کمی ہوئی ہے، انڈیکس کا اسکور کم ہونا کرپشن میں اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے مطابق پاکستان میں کرپشن گزشتہ برس کے مقابلے میں بڑھی ہے۔ 2018 میں موجودہ حکومت نے جب اقتدار سنبھالا اس وقت پاکستان کا کرپشن انڈیکس میں117واں نمبر تھا۔ 2019 میں پاکستان درجہ بندی میں 120ویں نمبر پر تھا۔ 2020 میں 124 ویں اور اب 2022 میں 140 ویں نمبر پر آنا اس بات کا اشارہ ہے کہ موجودہ دور حکومت میں پاکستان کی 23 درجے تنزلی ہوئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق فن لینڈ، نیوزی لینڈ اور ڈنمارک کرپشن کے خلاف 88 اسکور کے ساتھ پہلے نمبر پر رہے، جنوبی سوڈان نے فہرست میں آخری پوزیشن حاصل کی۔ امریکا 67 پوائنٹس کے ساتھ 27 ویں اور بھارت 40 پوائنٹس کے ساتھ 85 ویں نمبر پر رہا۔
اپوزیشن کا ردِ عمل
اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی کرپشن پررپورٹ حکومت کے خلاف چارج شیٹ ہے۔کرپشن میں پاکستان کا 16 درجے اوپر جانا اس حکومت کے بیانئے کو بے نقاب کرتا ہے۔ 2020 میں دنیا بھر میں پاکستان کرپشن پرسیپشن انڈیکس میں 124 نمبر پر تھا۔ ایک سال کے اندر پاکستان 140ویں نمبر پر آگیا ہے۔کرپشن ختم کرنے کی دعویدار حکومت نے 16 ممالک کو بدعنوانی کی دوڑ میں پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
حکومت کا مؤقف
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے حوالے سے حکومت کا کہنا ہے کہ مذکورہ رپورٹ میں مالی بدعنوانی شامل نہیں بلکہ قانون کی حکمرانی کے معاملے پر کیا گیا اورٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی پوری رپورٹ نہیں آئی، صرف اسکور بتایا گیا ہے۔ رپورٹ مرتب کرنے والے تمام اداروں نے ریکنکنگ کو برقرار رکھا، صرف اکنامک انٹیلی جنس یونٹ نے اسکور کم کیا۔
پاکستان میں کرپشن
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 3 سال میں کرپشن میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے گوکہ وزیراعظم عمران خان کرپشن کیخلاف اپنے مؤقف پر سختی سے قائم ہیں تاہم اس کے باوجود پاکستان میں کرپشن میں اضافہ لمحۂ فکریہ ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت میں قومی احتساب بیورو کی کارروائیوں میں بھی تیزی آئی ہے جبکہ نیب کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق نیب نے چار سال سے زائد عرصہ میں 539 ارب روپے وصول کئے جو پچھلے سالوں کے مقابلے میں قابل ذکر کامیابی ہے اوراب تک 501729 شکایات موصول ہوئیں اور 498256 کو نمٹادیا گیا جبکہ 1353 ارب کے 1237 ریفرنس زیر سماعت ہیں ،جن میں سے 15475 کی تحقیقات مکمل ہوچکی ہیں۔
نیب اور دیگر اداروں کی کارروائیوں اور حکومت کے عزم کے باوجود ملک میں کرپشن میں اضافے پر حکومت اور متعلقہ اداروں کو سرجوڑ کر بیٹھنے اورکرپشن کے خاتمے کیلئے محض دعوے نہیں بلکہ عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ بدعنوانی سے پاک پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکے۔