کراچی: مقامی کاٹن مارکیٹ میں گزشتہ ہفتہ کے دوران روئی کے کاروبار میں بہت ہی سست روی نظر آئی اس کی وجہ یہ ہے کہ کچھ ٹیکسٹائل ملز کو روئی کی ضرورت ہے لیکن مالی بحران کی وجہ سے وہ ادھار پر روئی خریدنے کے خواہش مند ہیں لیکن کچھ جنرز کے پاس کم مقدار میں کوالٹی کاٹن دستیاب ہے لیکن وہ روئی کا بھاؤ کم کرنے سے اجتناب کررہے ہیں۔
جس کی وجہ سے مارکیٹ میں بہت ہی کم کاروبار نظر آرہا ہے، بڑے ٹیکسٹائل گروپس امپورٹڈ کاٹن اچھے بھاؤ میں ملنے کی وجہ سے خرید رہے ہیں گو کہ بہت ہی کم مقدار میں کاروبار ہورہا ہے کچھ کاروبار اندر ہی اندر مل ٹو مل ہوجاتا ہے جو سامنے نہیں آتا۔
جنرز کے پاس روئی کا اسٹاک کم سے کم تر ہوتا جارہا ہے جبکہ ایک بین الاقوامی ادارہ بھی کچھ مال اندر ہی اندر فروخت کرتا ہے جس کی رپورٹ بھی نہیں آرہی۔پٹرولیم مصنوعات کے ریٹ میں اضافہ ہونے کی وجہ سے پولیسٹر فائبر کے ریٹ میں بھی اضافہ ہونے کی توقع ہے۔
اس وجہ سے پولیسٹر کاٹن کا متبادل ہوسکتا ہے وہ بھی مہنگا ہوجائے گا تو پھر کاٹن کا ریٹ فی الحال نیچے آنے کی کوئی گنجائش نہیں اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ اسٹاک بہت کم ہے اور جبکہ درآمدی روئی آنا شروع ہوگئی ہے لیکن یوکرائن اور روس کی جنگ کی وجہ سے اس بھی تاخیر ہونے کا امکان ہے۔
پاکستان میں بھی سیاسی صورت حال ابتر ہوتی نظر آرہی ہے اور گو مگو کی پوزیشن ہوگئی ہے اس وجہ سے یہاں بھی کاروبار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔صوبہ سندھ میں روئی کا بھاؤ فی من 18000 تا 20000 روپے صوبہ پنجاب میں بھی روئی کا بھاؤ 18000 یا 20000 روپے چل رہا ہے۔
پھٹی بہت ہی قلیل مقدار میں رہ گئی ہے گو کہ بنولہ اور کھل کا بھاؤ مستحکم ہے۔ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کی اسپاٹ ریٹ کمیٹی نے اسپاٹ ریٹ فی من 20000 روپے کے بھاؤ پر مستحکم رکھا۔
بین الاقوامی کاٹن مارکیٹوں میں بھی روئی کے بھاؤ میں اضافہ نظر آرہا ہے اس کی ایک وجہ یوکرائن اور روس کے مابین جنگ ہے دوسری جانب انڈیا کے ملوں کی کنزمشن بڑھتی ہوئی نظر آرہی ہے جبکہ کروپ اولین تخمینہ سے 12 لاکھ گانٹھیں کم بتائی جارہی ہے اسی طرح بنگلہ دیش میں بھی کنزمشن زیادہ ہے اسے بھی مشکل درپیش ہے کیوں کہ بھارت بنگلہ دیش کو بڑی مقدار میں روئی برآمد کرتا ہے۔
مزید پڑھیں: کمشنر کراچی کی ڈپٹی کمشنرز کو دودھ کی قیمتیں کنٹرول کرنے کی ہدایت
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








