ملک بھر میں آج ایک نہیں بلکہ دو سوگ منائے جارہے ہیں، ایک سوگ سانحہ اے پی ایس کا جس کے زخم تاحال تازہ ہیں جبکہ دوسرا ملک کے دولخت ہونے کا بڑا سانحہ ہے جسے 54سال گزر گئے۔ سوال یہ ہے کہ قوم نے سقوطِ ڈھاکہ سے کیا سیکھا؟ ہم نے من حیث القوم 54سال کے عرصے میں کیا کھویا اور کیا پایا؟
ایک جانب سقوطِ ڈھاکہ کو ملک کی تاریخ کا سیاہ ترین دن قرار دیا جاتا ہے تو دوسری جانب اس کے اسباب و محرکات میں یہ بھی شامل ہے کہ عاقبت نااندیش اپنوں اور برسہابرس سے بھیڑئیے کی طرح تاک میں بیٹھے دشمن کی سازشوں کے باعث ملک اتنے بڑے حادثے سے دوچار ہوا اور مشرقی پاکستان ہم سے جدا ہوگیا۔
آج سے ٹھیک 54سال قبل 16دسمبر 1971 کو جب موجودہ پاکستان مشرقی پاکستان سے الگ ہونے پر مجبور ہوا، تو یہ قومی سانحہ سیاسی عدم اتفاق، الیکشن کے نتائج کو تسلیم نہ کرنے اور وفاق اور مشرقی پاکستان میں باہمی اعتماد کے فقدان کے باعث رونما ہوا اور ہمارے ہمسایہ ملک بھارت نے اس صورتحال کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔
بھارت نے مکتی باہنی کی مدد کی اور کھلی مداخلت کرتے ہوئے پاکستان کی اندرونی صورتحال کو خانہ جنگی کی صورت عطا کردی۔ یہ وہ بد ترین عالمی سازش تھی جس کے نتیجے میں مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا اور مغربی پاکستان جو دنیا کی سابق سب سے بڑی اسلامی ریاست پاکستان کا محض بایاں بازو تھا، آج مکمل پاکستان کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔
پاک فوج کے بہادر سپاہیوں نے محدود وسائل، کم تعداد اور بھارت کی کھلی مداخلت کے باعث سپلائی لائن کٹ جانے کے باوجود لڑائی کا سلسلہ جاری رکھا تاہم عسکری مداخلت، بھارتی سازشوں اور مکتی باہنی کی بغاوت کے باعث پاک فوج کو ناقابلِ تصور حد تک پریشان کن حالات کا سامنا کرنا پڑا اور ملک دولخت ہوگیا۔
اس حوالے سے ملک کے مشہورومعروف سیاستدانوں نے بھی اپنی اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ پی پی پی کے مرزا اختیار بیگ کا کہنا ہے کہ سقوطِ ڈھاکہ کا ایک واضح پیغام ہے کہ جب محرومیوں میں اضافہ ہوتا ہے تو تلخیاں بھی بڑھ جاتی ہیں اور تلخیوں کے بڑھنے سے جدائیاں ہوتی ہیں۔ اللہ کا شکر ہے کہ بنگلہ دیش نے پاکستان کو اپنا فطری بھائی تسلیم کیا۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما شیخ آفتاب کا کہنا ہے کہ اس وقت بدقسمتی سے جو الیکشن ہوئے، ان کے نتائج تسلیم نہیں کیے گئے اور اگر تسلیم کرلیا جاتا تو شاید پاکستان ان حالات سے نہ گزرتا۔ آج وہ حالات نہیں ہیں۔ سقوطِ ڈھاکہ تلخ یاد سہی، لیکن بطور قوم ہمیں آگے بڑھنا ہوگا تاکہ ملک کا مستقبل تابناک ہو۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








