ملک بھر میں ہائی بلڈ پریشر سے سالانہ اموات کی تعداد 4لاکھ تک پہنچ گئی

تازہ ترین

تازہ ترین

ہائی بلڈ پریشر
(فوٹو: پکسابے)

کراچی: ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کی پرو وائس چانسلر پروفیسر جہاں آرا حسن نے کہا ہے کہ ملک میں ہر سال تقریباً 4 لاکھ افراد بلند فشار خون کے باعث انتقال کر جاتے ہیں، جبکہ یہ بیماری فالج سمیت دیگر بڑے اور پیچیدہ امراض کا سبب بھی بنتی ہے۔ 

تفصیلات کے مطابق ڈاؤ انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے زیر اہتمام عالمی یومِ فشار خون کے موقع پر منعقدہ آگاہی سیمینار اور پینل مباحثے سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے پروفیسر جہاں آرا حسن نے کہا کہ دنیا بھر میں ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کی تعداد تقریباً 1 ارب 40 کروڑ تک پہنچ چکی ہے۔ ہر سال عالمی سطح پر تقریباً 1 کروڑ افراد اس بیماری کے نتیجے میں جاں بحق ہوجاتے ہیں جبکہ پاکستان میں اس سے ہونے والی اموات کا اندازہ 4 لاکھ سالانہ ہے۔

پرووائس چانسلر پروفیسر جہاں آرا حسن نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ بلند فشار خون ایک خاموش مگر خطرناک بیماری ہے جو متعدد پیچیدہ امراض کو جنم دیتی ہے، جن میں فالج، دل کے امراض، گردوں کی خرابی اور بصارت کی کمزوری شامل ہیں۔

پروفیسر جہاں آرا حسن کے مطابق ڈاؤ یونیورسٹی نے کراچی میں اپنے 100 سے زائد لیب کلیکشن مراکز کو بنیادی طبی سہولت کے مراکز میں تبدیل کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، جہاں بلڈ پریشر کی باقاعدہ نگرانی کے ساتھ ساتھ اس کے علاج کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔

سیمینار کے دوران مقررین کا کہنا تھا کہ پاکستان میں تقریباً 3 کروڑ 30 لاکھ افراد ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہیں، جن میں سے صرف 12 فیصد اپنا بلڈ پریشر مؤثر طور پر کنٹرول کر پاتے ہیں، جبکہ تقریباً 50 فیصد مریض اپنی بیماری سے ہی لاعلم ہیں۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ ملک میں ہائی بلڈ پریشر کے باعث دل کے دورے اور فالج کے کیسز میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

Related Posts