روس پر ہولناک ڈرون حملوں کی بارش! کئی ہلاک؛ درجنوں زخمی، خوفناک ویڈیو وائرل

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ اسکرین گریب)

یوکرین نے روس کے مختلف علاقوں پر بڑے پیمانے پر ڈرون حملے کیے ہیں جن میں کم از کم 4 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ روسی حکام کے مطابق یہ حملے اتنے وسیع تھے کہ دارالحکومت ماسکو کے نواحی علاقوں تک ان کے اثرات محسوس کیے گئے جو جاری جنگ میں ایک غیر معمولی شدت کی نشاندہی کرتے ہیں۔

روسی وزارت دفاع اور سرکاری خبر رساں ادارے ٹاس کے مطابق مجموعی طور پر 556 ڈرونز کو یا تو تباہ کر دیا گیا یا فضا میں ہی روک لیا گیا۔ یہ حملے ایک درجن سے زائد علاقوں میں کیے گئے جن میں ماسکو ریجن بھی شامل ہے۔ یوکرین کے صدر نے ان کارروائیوں کو روسی حملوں کا جائز جواب قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ روس کو اپنی جنگ کے انجام کے لیے تیار ہونا چاہیے۔

ماسکو کے قریب علاقوں خصوصاً خیمکی اور میتیشچی میں رہائشی عمارتیں ڈرون حملوں کی زد میں آئیں جس کے نتیجے میں 3 افراد موقع پر ہلاک اور 12 زخمی ہوئے۔ علاقائی گورنر آندرے وروبیوف کے مطابق کئی رہائشی علاقوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایک بھارتی شہری بھی اس حملے میں ہلاک جبکہ تین زخمی ہوئے ہیں۔

حملوں کے اثرات صرف ایک علاقے تک محدود نہیں رہے بلکہ ماسکو کے قریب کئی دیگر قصبوں میں بھی رہائشی عمارتیں متاثر ہوئیں۔ حکام کے مطابق یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جنگ اب روس کے مرکزی طاقت کے مراکز کے مزید قریب پہنچ رہی ہے۔

زلیونوگراڈ کے ایک مضافاتی علاقے میں ڈرون یا اس کے ملبے نے رہائشی عمارت کی نچلی منزل کو نقصان پہنچایا۔ متاثرہ عمارت کے باہر لوگ جمع ہو کر صورتحال دیکھتے رہے جبکہ مرمت کا کام جاری تھا۔ کچھ رہائشیوں نے یہاں تک بات کی کہ اب ڈرون حملوں کے خطرے کے پیش نظر گھروں کے لیے نئی انشورنس پالیسیوں پر غور کیا جا رہا ہے۔

عمارت کے اندر شیشے کے ٹکڑوں سے زخمی افراد کے خون کے نشانات بھی دیکھے گئے۔ ایک خاتون رہائشی ماریہ نے بتایا کہ علاقے کے لوگ اب آسمان میں ڈرونز کی موجودگی کے عادی ہونے لگے ہیں اور وہ خود بھی خطرے کے پیش نظر کھڑکیوں پر ٹیپ لگا کر احتیاط کرتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کا کم عمر بیٹا گھر میں اکیلا تھا جب پہلا دھماکہ ہوا اور اس نے فوراً انہیں فون کیا اس کے بعد دوسرا دھماکہ بھی سنائی دیا۔ ماریہ نے یہ بھی شکایت کی کہ ایمرجنسی سروسز تاخیر سے پہنچیں جس کی وجہ سے ان کا بیٹا سرد موسم میں باہر اکیلا کھڑا رہا۔

ان کے مطابق جنگ کا یہ پانچواں سال ہے اور اب تک ہنگامی اداروں کی تیاری مزید بہتر ہونی چاہیے تھی تاہم صورتحال اب بھی غیر یقینی اور تشویشناک نظر آتی ہے۔

Related Posts