اسلام آباد: ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے پاکستان کے سابق سفیرکی بیٹی نورمقدم کے قتل کیس میں تھراپی ورکس کے مالک سمیت 6افراد کی ضمانت کی درخواستیں منظور کر لیں۔
اپنے تحریری فیصلے میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کا کہنا ہے کہ نور مقدم کے قتل میں ابتدائی طور پر تھراپی ورکس کے مالک کے ساتھ ملازمین کا بھی کوئی کردار نہیں تھا، عدالت کا کہنا ہے کہ سابق سفیرکی بیٹی کے قتل کے وقت تھراپی ورکس کے مالک اور ملازم موجود نہیں تھے۔
مزید یہ کہ جرم کا ریکارڈ بتاتا ہے کہ اس کیس کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر نے ایک ملازم امجد کو شدید زخمی کر دیا تھالہٰذا یہ فرض نہیں کیا جا سکتا کہ تھراپی ورکس ٹیم ثبوتوں کو مٹانے کے لیے کرائم سین میں گئی تھی۔
واضح رہے کہ اسلام آباد پولیس نے نور مقدم کیس میں پہلے تھراپی سینٹر کے ملازم کو گرفتار کیاتھا، پولیس کا کہنا تھاکہ ملازم امجد نور مقدم کے قتل کے روز تھراپی سینٹر سے آنے والی ٹیم کے ہمراہ جائے وقوعہ پر پہنچا تھا۔
پولیس کے مطابق تھراپی سینٹر کے ملازم کو ظاہر جعفر نے وقوعہ کے روز زخمی کردیا تھا۔ ملازم کو گرفتار کرنے کا مقصد اسے نور مقدم کیس کی تحقیقات میں شامل کرنا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملازم سے پوچھ گچھ میں مزید انکشافات کی توقع ہے۔
خیال رہے کہ اِس سے قبل سوشل میڈیا صارفین نے نور مقدم قتل کیس کے ملزم ظاہر جعفر سے وی آئی پی سلوک پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے مختلف سوالات اٹھائے جبکہ ملزم نے سابق پاکستانی سفیر کی 27 سالہ بیٹی کو بے رحمی سے قتل کردیا۔