وفاقی حکومت نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ممکنہ توانائی بحران پر قابو پانے کیلئے حکمتِ عملی تیار کرلی۔ وزیراعظم نے اشیائے ضروریہ اور پیٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی اور غیرقانونی اسمگلنگ کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پیٹرولیم مصنوعات کے اسٹاک اور کھپت پر ہائی پاورڈ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس کے دوران اراکین کو آگہی دی گئی کہ دفاتر اور تعلیمی اداروں کیلئے ورک فرام ہوم اور ورچول نظامِ تعلیم کا پلان تیار کرلیا گیا ہے۔
ایران پر جاری حملوں، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر حکومتی اقدامات کا مقصد ایندھن کے اسٹاک کا مؤثر استعمال اور طلب میں کمی لانا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے آج پیٹرولیم مصنوعات سے متعلق اہم فیصلے متوقع ہیں۔
ہائی پاورڈ کمیٹی اجلاس کے دوران وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے وزیراعظم شہباز شریف کو بریفنگ دی۔ خیال رہے کہ ایران پر امریکا و اسرائیل حملوں کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اب تک کم از کم 20 فیصد تک اضافہ ہوگیا ہے اور بین الاقوامی سطح پر مہنگائی کے باعث پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک میں بھی مہنگائی کا خدشہ ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








