گرنے کے خدشات، کراچی میں بارش سے پہلے درجنوں عمارتیں خالی کروانے کا فیصلہ

تازہ ترین

تازہ ترین

Dangerous buildings to be evacuated amid monsoon spell in karachi

کراچی: شہری انتظامیہ نے مون سون کے دوران 40 انتہائی خطرناک عمارتوں کو خالی کرنے اور بل بورڈز ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔

کمشنر کراچی سید حسن نقوی نے شہر میں خطرناک اور خستہ حال عمارتوں کو خالی کرانے کے انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس کی صدارت کی۔

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کے حکام نے اجلاس کو بتایا کہ زیادہ تر خستہ حال اور خطرناک عمارتیں ڈسٹرکٹ ساؤتھ میں واقع ہیں، ان کا کہنا تھا کہ ضلع میں 450 خطرناک عمارتیں ہیں۔

ایس بی سی اے حکام کا کہنا تھا کہ تمام خطرناک عمارتوں کو خالی کرانے کے لیے نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں۔

اجلاس میں انتہائی خطرناک اور خستہ حال عمارتوں کی فہرست پیش کی گئی جس میں کہا گیا کہ 40 عمارتیں انتہائی خطرناک حالت میں ہیں جنہیں ترجیحی بنیادوں پر خالی کرانے کی ضرورت ہے۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ڈپٹی کمشنر ساؤتھ الطاف ساریو ان 40 عمارتوں کے یوٹیلیٹی کنکشن منقطع کرنے کے لیے کے الیکٹرک اور سوئی سدرن گیس کمپنی کے ساتھ میٹنگ کریں گے۔

دوسری جانبسندھ حکومت نے کراچی میں خطرناک بل بورڈز ہٹانے کا حکم دے دیا۔ چیف سیکریٹری سندھ کی منظوری کے بعد کیے جانے والے اقدامات کے حوالے سے ڈویژنل کمشنر اور سیکریٹری لوکل گورنمنٹ کو خط ارسال کردیا گیا ہے۔

خط میں کہا گیا کہ “محکمہ موسمیات نے صوبے میں مون سون کی شدید بارشوں کی پیش گوئی کی ہے، یہ بل بورڈز تیز ہواؤں اور بارش کی وجہ سے انسانی زندگی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔”

سندھ حکومت نے سپریم کورٹ کے حکم کا حوالہ دیتے ہوئے ان بل بورڈز کو فوری ہٹانے کی ہدایت کی۔

Related Posts