اسلام آباد :سپریم کورٹ میں بدھ کے روز وال اسٹریٹ جرنل کے جنوبی ایشیاء بیورو کے چیف و امریکی صحافی ڈینیل پرل کے قتل سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔
کارروائی کے دوران سندھ کے پراسیکیوٹر جنرل نے مقدمہ کی تیاری کے لئے وقت مانگا جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ اگر ملزمان بے قصور ثابت ہوئے تو تلافی کرناناممکن ہوگا۔
واضح رہے کہ کراچی میں قتل ہونیوالے ڈینیل پرل وال اسٹریٹ جرنل کے جنوبی ایشیاء بیورو کے چیف کی حیثیت سے کام کر رہے تھے۔
اس کیس میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 15 جولائی 2002 کو عمر شیخ کو سزائے موت اور فہد نسیم ، سلمان ثاقب اور شیخ عادل کو ڈینیل پرل کو تاوان کے بدلے اغوا کرنے اور اس کے بعد قتل کرنے کے جرم میں عمر قید کی سزاء سنائی تھی۔