واشنگٹن: وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں میں شرکت کیلئے امریکا پہنچتے ہی اہم شخصیات سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔
وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار نے واشنگٹن میں آئی ایم ایف اور امریکی حکام سے ملاقاتیں کیں، جن میں مالیاتی امور سمیت دیگر دوطرفہ معاملات پر گفتگو ہوئی۔
وزیرخزانہ نے واشنگٹن میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر انتھونیٹ سائیح سے ملاقات کی، اس دوران پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے درمیان امور کا جائزہ لیا گیا۔
جمعرات کو ہونے والی ملاقات میں وزیرِخزانہ نے آئی ایم ایف کی ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر کو پاکستان کی معیشت کے کلیدی اعشاریوں، پائیدار اقتصادی نمو اور معیشت کو مضبوط بنانے کیلئے اٹھائے جانیوالے اقدامات سے آگاہ کیا۔

انہوں نے آئی ایم ایف کی انتھونیٹ سائیح کو پاکستان میں حالیہ سیلاب اور اس سے معیشت کو ہونیوالے نقصانات کے بارے میں بھی بتایا۔
بعد ازاں انہوں نے وفد کی صورت میں ورلڈ بینک کے صدر ڈیوڈ مالپاس سے ملاقات کی، جس میں پاکستان میں سیلاب کی صورت حال سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
سیلاب کی وجہ سے نہیں بلکہ کرپٹ اور نااہل حکمرانوں کی وجہ سے سندھ ڈوبا ہے، فیصل ندیم
قبل ازیں وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر اسحاق ڈار نے امریکی سیکریٹری خزانہ کے قونصلر برائے بین الاقوامی امور ڈیوڈ لپٹن سے ملاقات کی، اس موقع پر امریکا میں پاکستان کے سفیر مسعود خان بھی موجود تھے۔
ملاقات میں پاکستان اور امریکا کے درمیان تجارت، مالیات، سرمایہ کاری اور معاشی شعبے میں تعلقات سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔ وزیر خزانہ نے ڈیوڈ لپٹن کو پاکستان میں حالیہ بارشوں اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بنیادی ڈھانچہ کی تعمیر نو اور متاثرین کی بحالی کیلئے تمام تر کوششوں کو یقینی بنا رہی ہے۔
وزیر خزانہ نے پائیدار اقتصادی نمو اور اقتصادی چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے حکومتی اقدامات سے بھی انہیں آگاہ کیا۔
معلوم رہے کہ وزیر خزانہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور عالمی بینک کے حکام کے ساتھ مذاکرات کیلئے ان دنوں امریکا کے دورے پر ہیں، اس دوران آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک حکام سے تفصیلی ملاقاتیں ہوں گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








