اسلام آباد: پاکستان سمیت دنیا بھر میں صحافیوں کے خلاف جرائم کے خاتمے کا عالمی دن آج منایا جارہا ہے جبکہ سال 2024 کو صحافیوں کیلئے مہلک ترین سال قرار دیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق صحافی برادری انتہائی کٹھن اور خطرناک حالات کا سامنا کرنے پر مجبور ہے جسے تشدد سہنے اور دشمنیاں مول لینے پر مجبور ہونا پڑتا ہے، تاہم جب کسی صحافی پر حملہ ہوتا ہے تو تشدد یا قتل کے مجرموں کو شاید ہی سزا ملتی ہے۔
اقوامِ متحدہ نے صحافی برادری کے خلاف جرائم کے عالمی دن کے موقعے پر پیغام دیا کہ یہ دن منانے کا مقصد عوام کو سچ بتانے کی پاداش میں قتل ہونے یا ظلم و جبر سہنے والے صحافیوں کو یاد رکھنا ہے۔ پاکستان میں صحافیوں کے خلاف جرائم کے اعدادوشمار تشویشناک ہیں۔
آج بھی پاکستان دنیا کے ان ممالک میں گنا جاتا ہے جو صحافیوں کیلئے خطرناک سمجھے جاتے ہیں۔ ہمارے پیارے وطن میں سال 2000 سے 2022 تک 150 صحافی قتل ہوئے جبکہ صرف 2 ملزمان کو سزائیں مل سکیں۔ فریڈم نیٹ ورک کا کہنا ہے کہ 2024 پاکستانی صحافیوں کیلئے مہلک ترین رہا ہے۔
رواں برس 6 صحافی قتل ہوئے جبکہ 11 پرقاتلانہ حملہ کیا گیا۔ وفاقی اور صوبائی سطح پر صحافیوں کا تحفظ یقینی بنانے کیلئے قانون سازی کے باوجود صحافی محفوظ نہیں اور صحافی برادری خودکو غیر محفوظ سمججھنے پر مجبور ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








