دنیا کے مختلف حصوں میں دو رنگا رنگ تہوار منائے جاتے ہیں ایک ہالووین اور دوسرا ڈے آف دی ڈیڈ، بظاہر دونوں تقریبات میں ڈھانچوں، موم بتیوں اور لباسوں جیسی چیزیں ایک جیسی لگتی ہیں لیکن ان کا مقصد اور پس منظر ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہے۔
ہالووین کی ابتدا قدیم سیلٹک تہوار سَوین سے ہوئی جب لوگ یہ مانتے تھے کہ 31 اکتوبر کی رات زندہ اور مردہ دنیا کے درمیان حد مٹ جاتی ہے۔ آج کے دور میں یہ تہوار تفریح اور شرارت کا دن بن چکا ہے جس میں بچے گھروں کے دروازے کھٹکھٹا کر مٹھائیاں مانگتے ہیں،لوگ خوفناک لباس پہنتے ہیں، کدو کے چراغ بناتے ہیں اور ڈراؤنی پارٹیاں کرتے ہیں۔ اس دن کا مقصد خوف کو مزاح میں بدل دینا اور بُری روحوں کو دور رکھنے کی علامتی کوشش کرنا ہے۔
اس کے برعکس ڈے آف دی ڈیڈ یعنی یومِ اموات محبت، یاد اور خاندان کے رشتوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا تہوار ہے۔ یہ روایت میکسیکو اور لاطینی امریکا کے دیگر حصوں میں منائی جاتی ہے اور اس کی جڑیں قدیم ایزٹک ثقافت اور مسیحی مذہبی دنوں سے جڑی ہوئی ہیں۔
یہ تہوار یکم اور دو نومبر کو منایا جاتا ہے جس میں خاندان اپنے مرحوم پیاروں کی یاد میں میزیں سجاتے ہیں جن پر پھول، موم بتیاں، تصاویر، کھانے اور رنگین شوگر اسکلز رکھے جاتے ہیں۔
ہالووین کا تعلق خوف اور شرارت سے ہے جبکہ ڈے آف دی ڈیڈ زندگی اور یادوں کے جشن کی علامت ہے۔ دونوں تقریبات میں روحوں کا ذکر تو ضرور ہے مگر ایک میں ان سے بچنے کی کوشش کی جاتی ہے اور دوسرے میں انہیں خوش آمدید کہا جاتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








