مردے زندہ ہوجائیں گے، جانوروں کا گوشت نایاب اور؟ 2050 تک سائنسی ترقی کے تلخ حقائق بے نقاب

تازہ ترین

تازہ ترین

مردے زندہ
(فوٹو: آن لائن)

مصنوعی ذہانت کی آمد کے ساتھ ہی بنی نوع انسان نے اپنے مستقبل کو ایک نئی نظر سے دیکھنا شروع کردیا ہے اور آج وہ پیشگوئیاں ممکن ہیں جو ماضی میں کبھی خواب ہوا کرتی تھیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ 2050 تک مردے زندہ ہوجائیں گے، جانوروں کا گوشت نایاب اور کاغذ کی کرنسی کا دور دور تک نام ونشان نہیں ہوگا۔سائنسی ترقی اور آئندہ سالوں کے تلخ حقائق بے نقاب ہوگئے۔ 

ماہرین کا ماننا ہے کہ 2050 تک دنیا کی آبادی 10ارب تک جا پہنچے گی اور خوراک کی ضروریات آج کے مقابلے میں 60فیصد تک بڑھانا ضرورت بن جائے گا تاہم پانی کی قلت 5 ارب انسانوں کو متأثر کرسکتی ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ غربت میں بھی آبادی بڑھنے کی رفتار سے ہی اضافہ ہوگا۔

آبادی بڑھنے کی پیشگوئی کے بعد جو دوسری پیشگوئی ماہرین نے 2050 کے حوالے سے کی ہے وہ یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت دنیا بھر میں 80 کروڑ ملازمتیں ختم کردے گی جن میں ڈرائیورز، کیشئیرز، وکلا، ریڈیولوجسٹس، ڈاکٹرز اور انجینئرز کی ملازمتیں بھی شامل ہیں اور ابھی سے اس کی پیشگوئیاں کی جارہی ہیں جو 2050 تک تلخ حقیقت بن کر سامنے آجائیں گی۔

تیسری پیشگوئی یہ ہے کہ انسان زمین کے ساتھ ساتھ مریخ پر بھی رہنا شروع کردے گا اور معروف امیر ترین شخصیت اور ایکس (سابقہ ٹوئٹر) کے مالک ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس نے بھی 2050 تک ہی مریخ پر انسانوں کی ایک بستی بسانے کا اعلان کیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ زمین سے مریخ پر جانے والے لوگ واپس نہیں آئیں گے، بلکہ وہیں کے ہو کر رہ جائیں گے۔

چوتھی پیشگوئی یہ ہے کہ مردے زندہ ہوجائیں گے اور آج اس کا مظاہرہ جو ویڈیوز کی شکل میں پہلے ہی ہورہا ہے کہ مردہ سیاسی و سماجی شخصیات کے اے آئی ایواٹارز کی مدد سے ویڈیوز بنائی جارہی ہیں اور ہٹلر جیسے ظالموں سے لے کر قائد اعظم اور علامہ اقبال جیسے عظیم افراد تک ہر شخص کی اے آئی ویڈیو بنائی جاچکی ہے، یہ ٹیکنالوجی مزید بہتر بن کر سامنے آئے گی اور چلتے پھرتے اور گفتگو کرتے ہوئے اے آئی ایواٹارز انتقال کرجانے والے انسانوں کی جگہ لیتے دکھائی دیں گے۔

پانچویں پیشگوئی یہ ہے کہ انسانی چہرہ ہی شناخت بن جائے گا اور گلی گلی میں موجود اے ٹی ایم یا اسٹورز پر بھی خریداری کیلئے چہرہ دکھانا لازمی ہوگا، جس کی مدد سے نہ صرف لین دین اور شناخت کا عمل ممکن ہوگا بلکہ حکومت کو بھی عوام کے پل پل کی خبر ملتی رہے گی۔ یہ وہ ٹیکنالوجی ہے جو آج کی انسانیت کیلئے باعث تشویش ہے کیونکہ اس کے بعد پرائیویسی یا اپنی ذاتی معلومات کو خفیہ رکھنا شاید ممکن نہ رہ سکے۔

چھٹی پیشگوئی یہ ہے کہ کاغذی کرنسی ختم ہوجائے گی اور دنیا بھر کی معیشتیں کیش لیس ہوجائیں گی۔ سویڈن پہلے ہی 98فیصد تک کیش لیس معیشت ہے اور پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک نے بھی کیش لیس معیشت پر کام شروع کر رکھا ہے۔ یوں مالیاتی فراڈ ناممکن ہو کر رہ جائے گا کیونکہ حکومت کے پاس ہر لین دین کا حساب کتاب خودبخود پہنچ جایا کرے گا اور ٹیکس کٹوتی بھی لین دین کے ساتھ ہی کرلی جائے گی۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by FACTLORE | Daniyal (@factloree)

ساتویں پیشگوئی یہ ہے کہ لیب میں بنایا گیا مصنوعی گوشت جانوروں کے گوشت کی جگہ لے لے گا، کیونکہ آئندہ دور میں آنے والی موسمیاتی تبدیلیوں اور بڑھتی ہوئی آبادی کے تناظر میں جانوروں کا گوشت نایاب ہو کر رہ جائے گا جو صرف امیر شخصیات کی دسترس میں ہوگا۔ باقی آبادی مصنوعی گوشت اور سبزیوں پر گزارہ کرے گی۔

 

Related Posts