خیر پور کا بااثر وڈیرہ قانون کے شکنجے میں! کاروکاری کیس میں عدالت نے کیا حکم دیا؟

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

سندھ کے شہر خیرپور میں پیش آئے دل دہلا دینے والے واقعے میں نوجوان لڑکی کو کاری قرار دے کر قتل کرنے کے مقدمے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ عدالت نے مرکزی ملزم وڈیرے کو جیل بھیجنے کا حکم دے دیا ہے جبکہ اس کے ایک ساتھی کو مزید تفتیش کے لیے پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

افسوسناک واقعہ خیرپور کے علاقے ٹنڈو مستی میں پیش آیا تھا جہاں 20 سالہ خالدہ چانڈیو کو کاروکاری کے الزام میں بے دردی سے قتل کیا گیا۔ اس کیس میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے اس جرگے میں شامل بااثر وڈیرے کو گرفتار کیا جس نے مبینہ طور پر لڑکی کے قتل کا فیصلہ سنایا تھا۔ بعد ازاں ملزم کو عدالت میں پیش کیا گیا۔

عدالتی کارروائی کے دوران سول جج نے ملزمان قیصر چانڈیو اور ولی محمد چانڈیو کے خلاف سماعت کرتے ہوئے قیصر چانڈیو کو جیل بھیجنے کا حکم جاری کیا جبکہ ولی محمد چانڈیو کو چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔

مقامی عدالت نے دونوں ملزمان کے الگ الگ بیانات ریکارڈ کیے جس کے بعد فیصلہ سنایا گیا۔ پولیس حکام کے مطابق قیصر چانڈیو نے عدالت میں پیشی کے دوران قتل کا اعتراف بھی کر لیا ہے جس سے کیس مزید واضح ہو گیا ہے۔

یاد رہے کہ چند روز قبل بٹو چانڈیو گاؤں میں ایک جرگہ منعقد ہوا تھا جہاں خالدہ چانڈیو کو کاری قرار دیا گیا۔ اس فیصلے کے بعد مبینہ طور پر اس کے قریبی رشتہ داروں نے ہجوم کے سامنے فائرنگ کر کے اسے قتل کر دیا۔

پولیس نے اس سنگین واقعے کے بعد فوری کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزمان سمیت مجموعی طور پر 18 افراد کو گرفتار کیا۔ حکام کے مطابق مقتولہ کی تدفین خاموشی سے کرانے والے مولوی منیر چانڈیو کو بھی حراست میں لے کر تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔

Related Posts