علامہ طالب جوہری کی وفات اور ذکرِ اہلِ بیت کے سنہرے باب کا اختتام

تازہ ترین

تازہ ترین

علامہ طالب جوہری کی وفات اور ذکرِ اہل بیت کے سنہرے باب کا اختتام
علامہ طالب جوہری کی وفات اور ذکرِ اہل بیت کے سنہرے باب کا اختتام

عالمِ اسلام کی مشہور و معروف شخصیت، عالمِ دین اور مفسرِ قرآن علامہ طالب جوہری کے انتقال سے آج واقعۂ کربلا بیان کرنے کے ایک مدلل انداز اور ذکرِ اہلِ بیت کے ایک سنہرے باب کا اختتام ہوگیا۔

بلاشبہ علامہ طالب جوہری کی وفات عالمِ اسلام کیلئے بالعموم اور شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے مسلم طبقے کیلئے بالخصوص ایک عظیم نقصان ہے جبکہ علامہ طالب جوہری عالمِ دین ہونے کے ساتھ ساتھ مؤرخ، فلسفی اور شاعر بھی تھے۔

آئیے آج ہم علامہ طالب جوہری کی زندگی کے چیدہ چیدہ پہلوؤں کا جائزہ لیں تاکہ ہم پر یہ آشکار ہوسکے کہ مرحوم کی شخصیت کو خدائے بزرگ و برتر نے کن اعلیٰ شخصی اوصاف سے نوازا تھا۔

ابتدائی زندگی اور دینی تعلیم

علامہ طالب جوہری نے 27 اگست سن 1939ء کو موجودہ بھارتی شہر پٹنہ میں آنکھ کھولی۔انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے والد  علامہ مصطفیٰ خان جوہر سے حاصل کی جس کے بعد انہیں عراق کی درسگاہ نجف اشرف بھیج دیا گیا۔

عراق میں آیت اللہ العظمی سیّد ابوالقاسم الخوئی کی درسگاہ حوزہ میں داخل ہوئے جہاں آیت اللہ شہید باقر الصدر نے طالب جوہری کو تعلیم دی۔ دیگر اہم شیعہ علماء مثلاً آیت اللہ العظمی سیّد علی سیستانی اور علامہ ذیشان حیدر جوادی طالب جوہری کے ہم جماعت تھے۔ 

ذکرِ اہلِ بیتِ اطہار

اہلِ بیت کا ذکر علامہ طالب جوہری کی زندگی کا ایک خاص وصف تھا۔ پاکستان ٹیلی ویژن جیسے سرکاری چینل پر ایک طویل عرصہ علامہ طالب جوہری نے واقعۂ کربلا بیان کرتے ہوئے گزارا۔

کربلا میں حضرت امام حسین علیہ السلام کو کس طرح شہید کیا گیا، اہلِ بیت نے کس کس طرح کے ظلم سہے، پانی بند ہونے سے پیاس سے چور میدانِ کربلا میں لڑنے والوں نے اسلام کی کس طرح حفاظت کی؟ یہ سارے سوالات اور ان کے جواب علامہ طالب جوہری کا خاص موضوع تھے۔

عام طورپر علامہ طالب جوہری اپنے بیان کا آغاز قرآن پاک کی کسی آیت اور اس کی عقلی تفسیر سے کرتے تھے۔ فلسفےکی مدد سے وہ بعض آیات کی ایسی تفسیر بیان کیا کرتے جو عام طور پر عوام الناس کے ذہن میں نہیں ہوتی تھی۔

قرآنِ پاک کی منفرد تفسیر

علامہ طالب جوہری قرآنِ پاک کی منفرد مگر قابلِ فہم تفسیر بیان کرتے تھے جو آسانی سے ہر انسان کی سمجھ میں آجاتی تھی اور لوگ انہیں دل کھول کر داد دیا کرتے تھے۔ 

مثال کے طور پر سورۃ الفیل کی پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: کیا تو نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا؟ یہاں علامہ طالب جوہری کے نزدیک اللہ تعالیٰ نبی کریم ﷺ سے سوال کر رہا ہے کہ کیا آپ نے نہیں دیکھا ہاتھی والوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا گیا؟

تفسیر بیان کرتے ہوئے علامہ طالب جوہری نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ واقعۂ فیل یعنی کعبہ کو مسمار کرنے کیلئے آنے والے ہاتھیوں پر ابابیلوں کا پتھر برسانا اور فوج کا پسپا ہونا حضورِ اکرم ﷺ کی ولادت سے سالوں پہلے کا واقعہ ہے۔

مفسرِ قرآن علامہ طالب جوہری کے نزدیک اللہ تعالیٰ کا حضور ﷺ سے یہ سوال کرنا بلا وجہ نہیں ہے جبکہ سوال کرنے کی وجہ دراصل یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ اپنی ولادت سے قبل ہونے والے اس واقعے کو بھی دیکھ رہے تھے اور اس کی تمام تفاصیل جانتے تھے۔ 

بین المسالک ہم آہنگی 

بلا شبہ علامہ طالب جوہری ایک شیعہ عالم تھے جن کا بیان سرکاری ٹی وی چینل پر طویل عرصے تک اس لیے چلتا رہا کیونکہ انہوں نے مسلک کی بنیاد پر تفریق اور فرقہ واریت پھیلانے کی کبھی کوشش نہیں کی بلکہ وہ بین المسالک ہم آہنگی کے علمبردار سمجھے جاتے تھے۔

حضرت امام حسین علیہ السلام کو شیعہ اور سنی عقیدت اور احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں اور واقعۂ کربلا کی اہمیت شیعہ اور سنی کے ساتھ ساتھ دیگر تمام مسالک کیلئے اظہر من الشمس ہے۔ ذاکرِ اہلِ بیت کی حیثیت سے علامہ طالب جوہری کے خطبات ہر مسلک کے مسلمان ماضی میں بھی سنتے تھے اور آج بھی ان کی ریکارڈنگز سنی جارہی ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ علامہ طالب جوہری نے جو علم حاصل کیا اس میں منطق اور فلسفہ بھی شامل تھا جس کی بنیاد پر وہ اپنی ہر دلیل کو قرآن سے بہت آسانی کے ساتھ ثابت کردیا کرتے تھے اور یہی بات ان کی شہرت کو عروج بخشنے کا سبب بنی۔ 

تخلیقات اور کتب 

بطور عالمِ دین، مفسر اور شاعر علامہ طالب جوہری نے بہت سی کتابیں تحریر کی ہیں جن میں تفسیر القرآن، احسن الحدیث اور حدیثِ کربلا اہم سمجھی جاتی ہیں۔ ذکرِ اہلِ بیت کے حوالے سے آپ نے مقاتل اور ذکرِ معصوم نامی کتب تحریر کیں جنہیں پذیرائی حاصل ہوئی۔

مذہبی حوالے سے علامہ طالب جوہری نے شیعہ مسلک کے 12 اماموں پر ایک کتاب خلفائے اثناء عشر تحریر کی، آثارِ قیامت کے حوالے سے آپ نے علاماتِ ظہورِ مہدی نامی کتاب بھی تحریر کی۔ عقلیاتِ معاصر فلسفے کی ایک کتاب ہے جو علامہ طالب جوہری نے تحریر کی۔

ذاکرِ اہلِ بیت علامہ طالب جوہری اردو شاعری سے بھی شغف رکھتے تھے۔ ان کی شاعری حرفِ نمو، پسِ آفاق اور شاخِ صدا کے نام سے شاعری کی 3 کتابوں میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔

وفات اور سوگواران

علامہ طالب جوہری کو 10 جون کو کراچی کے ایک نجی ہسپتال میں داخل کرایا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مرحوم دل کے عارضے میں مبتلا تھے اور گزشتہ کچھ دنوں سے وینٹی لیٹر پر تھے۔

ان کی نمازِ جنازہ آج کراچی میں بعد نمازِ ظہرین ادا کی جائے گی۔ انہوں نے اپنے سوگواران میں اہلیہ، 3 بیٹے اور 3 بیٹیاں چھوڑی ہیں  جبکہ وزیرِ اعظم عمران خان، وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیرِ اطلاعات شبلی فراز، وزیرِ بحری امور علی زیدی سمیت ملک کی نامور سیاسی و سماجی شخصیات نے ان کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔

ممتاز علماء، سیاسی اکابرین اور سماجی شخصیات کے مطابق علامہ طالب جوہری کی وفات سے ذکرِ اہلِ بیت کا ایک شاندار عہد ختم ہوگیا جسے ہمیشہ یاد کیا جائے گا اور علامہ طالب جوہری کے چاہنے والے انہیں دعائیں دیتے رہیں گے۔ 

Related Posts