بلوچستان میں بارشوں سے تباہی، 58 افراد جاں بحق

تازہ ترین

تازہ ترین

مون سون کے پہلے اسپیل نے جہاں کئی شہروں کا موسم خوشگوار بنادیا وہیں ابررحمت زحمت بن کر برسی، اور متعدد علاقوں بالخصوص بلوچستان میں بارشوں نے تباہی مچادی، جہاں محتاط اندازے کے مطابق اب تک 58 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان بھر میں اب تک 58 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ اور صوبے میں مون سے سون بارشوں سے تباہی کا سلسلہ جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

سندھ اور بلوچستان میں بارشوں کا تیس سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا

ضلع گوادر میں مون کے نئے اسپیل سے سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ہے، تیز بارشوں کے سبب کئی علاقوں میں رابطہ سڑکیں پانی میں بہہ گئیں ، گلی محلوں اور مارکیٹوں میں پانی جمع ہو گیا ، پانی گھروں میں داخل ہو گیا۔

ضلع کوہلو میں ڈپٹی کمشنر کی جانب سے سیلاب سے متاثرہ 45 خاندانوں میں خیمے راشن اور امدادی اشیاٗ تقسیم کی گئیں ،قربان علی مگسی نقصانات کا جائزہ لیا اور تخمنہ لگانے کے لئے ٹیمیں تشکیل دیں۔

پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق صوبے بھر میں اب تک مون سون بارشوں سے 56 افراد جاں بحق اور 48 زخمی ہوئے، 436 مویشی سیلابی پانی میں بہہ گئے، 670 مکانات منہدم، 5 پلوں اور ایک قومی شاہراہ کو نقصان پہنچا۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ ضلع واشک میں طوفانی بارشوں کے باعث درخت سے گرنے سے لڑکا جاں بحق ہوگیا، حالیی بارشوں سے جاں بحق افراد کی تعداد ا58 ہوگئی ہے متاثرہ علاقون میں ریلیف آپریشن جاری ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے متاثرہ خاندانوں کے لئے 5 پانچ لاکھ روپے امداد کا اعلان کیا ہے۔

کوئٹہ اور گردونواح میں بارش کے باعث شہر کی نالیاں ابل پڑیں، سیٹلائٹ ٹائون اور عبدااللہ ٹائون میں بھی دیواریں گرنے کے واقعات تصدیق ہوئے ہیں تاہم جانی نقصان نہیں ہوا، پشین اور قلعہ عبداللہ کے درمیان ڈیم میں شگاف پڑگیا ہے۔

بارشوں کے سبب تیز بارش کے باعث پشتون آباد میں مدرسے کی دیواریں گر گئیں، موٹرسائیکل پانی میں بہہ گئی اور ٹریکٹر پھنس گیا۔ پشین میں بڑے پیمانے پر تباہی کے خدشے کے پیش نظر لوگوں کی نقل مکانی شروع کردی ہے۔

کور کمانڈر کوئٹہ لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی نے پی ڈی ایم اے آفس کا دورہ کیا اور انہیں بارشوں و سیلابی صورتحال پر بریفنگ دی گئی، کور کمانڈر کو نقصانات اور بحالی کے اقدامات سے آگاہ کیا گیا۔

Related Posts