اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل کی ترقی پذیر ممالک کیلئے قرض ریلیف کی تجویز

تازہ ترین

تازہ ترین

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے انڈونیشیا کے شہر بالی میں جی ٹوینٹی وزرائے خارجہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمام ممالک کے درمیان مضبوط تعاون ہی سب کے لیے پرامن، مستحکم، خوشحال دنیا کا واحد پائیدار راستہ ہے۔

گوتریس نے اپنے ویڈیو خطاب کے دوران تیسری دنیا کے ممالک کے لیے قرضوں میں ریلیف کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی قرضوں کے ڈھانچے کی فوری اصلاح کی ضرورت ہے۔
انہوں نے اپنی بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ہمیں آپریشنل قرضوں میں ریلیف اور ری اسٹرکچرنگ فریم ورک کی ضرورت ہے جو نظام میں موجود کمزوریوں کو مدنظر رکھے۔
“G-20 اجلاس ایسے وقت ہو رہا ہے جب عالمی نظام اور کثیرالجہتی کو سخت چیلنج درپیش ہے، اس طرف اشارہ کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل نے کہا عالمی نظام کو درپیش چیلنجز میں ماحولیاتی صورتحال، کورونا کی وبائی بیماری، یوکرین میں جنگ اور تنازعات کی نئی اور ابھرتی ہوئی شکلیں شامل ہیں۔
گوٹیریس نے بالی اجلاس میں اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ کثیر الجہتی کو مضبوط بنانا جو اس سیشن کا موضوع ہے، یہ وقت کی ایک اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کثیر الجہتی دنیا کو وسیع پیمانے پر خوراک کی کمی، موسمیاتی افراتفری اور غربت کی لہر سے بچانے کا راستہ ہے۔
اقوام متحدہ کے سربراہ نے اس حوالے سے فوری طور پر بڑھتی ہوئی موسمیاتی ایمرجنسی، خوراک، توانائی اور مالیاتی بحران اور وبائی مرض سے غیر مساوی انداز میں نمٹنے کی جاری صورتحال جیسے شعبوں پر درست سمت میں کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

گوتریس نے زور دے کر کہا کہ طاقت اور مالی وسائل میں توازن پیدا کرنے کے لیے ایک نئی عالمی ڈیل کی ضرورت ہے۔

Related Posts