کراچی: سندھ حکومت نے چاول کی کاشت پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور وفاقی وزیر برائے پانی سید خورشید شاہ نے صوبائی وزرا کے ساتھ سیلاب کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لیا، اجلاس میں سیم اور دریائے سندھ کے بائیں جانب پانی کی سطح میں اضافے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا اور چاول کی کاشت پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا، شرکا کو بتایا گیا کہ اگر چاول کی کاشت پر پابندی عائد نہیں کی گئی تو زمینیں تباہ ہوجائیں گی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ سیم کا مسئلہ طویل عرصے سے درپیش ہے اور حالیہ سیلاب سے اس کی صورتحال مزید گھمبیر ہو چکی ہے، جس سے پانی کی سطح میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
اجلاس میں شرکا نے بتایا کہ سالہا سال بہنے والی نہریں جیسے گھوٹکی فیڈر، روہڑی کینال، نارا کینال اور خیرپور ویسٹ اینڈ ایسٹ فیڈرز کے کاشتکار مکمل پابندی کے باوجود چاول کی کاشت کر رہے ہیں۔
اسرائیل نے دہشتگرد تنظیموں کیساتھ تعلقات پر بائنانس کے 190 اکاؤنٹس ضبط کرلیے
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے صورتحال کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے گھوٹکی، سکھر، خیرپور، سانگھڑ، میرپورخاص، عمرکوٹ، شہید بینظیر آباد، نوشہرو فیروز، مٹیاری، حیدرآباد، ٹنڈو الہ یار، ٹنڈو محمد خان (جزوی) اور بدین (جزوی) کے اضلاع میں چاول کی فصل کی کاشت پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے محکمہ آبپاشی کو بروقت پانی چھوڑنے کی ہدایت کی تاکہ دریائے سندھ کے بائیں کنارے کے کاشتکار دوسری فصلیں اگاسکیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








