دیپیکا پڈوکون نے اپنی آٹھ گھنٹے کی ورک شفٹ کے مطالبے کا ایک بار پھر دفاع کیا ہے۔ دو بڑی فلموں اسپِرٹ اور کلکی 2898 اے ڈی کے سیکوئل سے الگ ہونے کے بعد ان کا یہ بیان سامنے آیا ہے کہ بہتر ورک لائف کیلئے توازن اور نئی ماؤں کیلئے سہولتیں انتہائی ضروری ہیں۔
گزشتہ ایک ماہ کے دوران مختلف انٹرویوز میں انہوں نے اس بیانئے پر زور دیا ہے کہ ہم نے ضرورت سے زیادہ کام کرنا معمول بنا لیا ہے اور ہم تھکن کو کمٹمنٹ سمجھ بیٹھتے ہیں، ان کا یہ بیانیہ سامنے آنے کے بعد بالی وڈ میں ورکنگ کنڈیشنز پر ایک بڑی بحث شروع ہو گئی ہے۔
سندیپ ریڈی وانگا کی فلم اسپِرٹ سے ان کی مئی 2025 میں اور ناگ اشون کی کلکی 2898 اے ڈی کے سیکوئل سے ستمبر 2025 میں علیحدگی کی خبریں پہلے ہی سامنے آ چکی تھیں۔
اگرچہ بعض ذرائع کا دعویٰ ہے کہ دیپیکا نے 25 فیصد معاوضہ بڑھانے اور کم ورک ٹائمنگ کا مطالبہ کیا تھا، لیکن دیپیکا نے وضاحت کی کہ ان کی اصل فکر صحت، خوشگوار زندگی اور کام کرنے والی ماؤں کے ساتھ منصفانہ رویہ ہے۔
ستمبر 2024 میں بیٹی ’دعا پڈوکون سنگھ‘ کی پیدائش کے بعد دیپیکا کا کہنا ہے کہ کامیابی اور کام کے بارے میں ان کا نقطۂ نظر اب مکمل طور پر بدل گیا ہے۔
ہارپرز بازار انڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ یہ سو فیصد سچ ہے۔ جب مائیں کہتی ہیں کہ ‘تمہیں سمجھ آئے گی جب تم خود ماں بنو گی’ یہ واقعی سچ ہے۔
انہوں نے اپنی والدہ کیلئے احترام کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیرئیر اور ممتا کو ایک ساتھ نبھانا انتہائی چیلنجنگ ہے۔ آپ چاہے لاکھ پلاننگ کریں کہ کام اور ماں ہونے کے تقاضوں کو مینج کریں گی، لیکن پھر بھی ایسا نہیں کر پائیں گی۔
دیپیکا کامیابی کی اصل تعریف “وقت اور آزادی” کو قرار دیتی ہیں، نہ کہ صرف پیشہ ورانہ کامیابیوں کو۔
دیپیکا نے بالی وُڈ میں پائے جانے والے دوہرے معیار پر بھی بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ مرد اداکار اپنی مرضی کے اوقات خود مقرر کر لیتے ہیں اور کسی کو اعتراض نہیں ہوتا، لیکن جب انہوں نے ورک شفٹ پر بات کی تو انہیں پروجیکٹس چھوڑنا پڑے۔
انہوں نے زور دیا کہ انسانی جسم اور ذہن کے لیے روزانہ آٹھ گھنٹے کام کافی ہے اور بتایا کہ ان کا اپنا آفس بھی پیر سے جمعہ سخت آٹھ گھنٹے کی شفٹ اور مکمل میٹرنٹی و پیٹرنٹی پالیسی پر چلتا ہے۔
انہوں نے کام کی جگہوں پر بچوں کی موجودگی کو معمول بنانے اور زچگی کے بعد واپس آنے والی خواتین کے لیے معاون ماحول پیدا کرنے کی وکالت کی۔ ان کے مطابق ایک تھکے ہوئے شخص کو واپس سسٹم میں لانے کا فائدہ کسی کو نہیں ہوتا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








