کراچی: ڈاٹرز آف اسلام کے تحت کرناٹک کی باحجاب طالبات سے اظہار یکجہتی کے لیے مزار قائد کے باہر بڑا مظاہرہ کیا گیا۔ جس میں شہر بھر سے مختلف تعلیمی اداروں اور دینی مدارس کی طالبات نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی۔
مزار قائد کے سامنے”حجاب میرا فخر” کے عنوان سے خواتین کے مظاہرے کی قیادت ڈاٹرز آف اسلام کی چیئرپرسن ام عبداللہ نے کی۔ مظاہرے میں شریک خواتین نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اور بینربھی اٹھا رکھے تھے۔
جن پر حجاب میرا فخر، میرا حجاب میرے رب کی مرضی،حجاب شوق نہیں عبادت ہے، میں اسلام کی بیٹی ہوں میں پردہ کرتی ہوں، جیسی تحریریں درج تھیں۔
مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے ڈاٹرز آف اسلام کی چیئرپرسن ام عبداللہ نے کہا کہ مودی کے ہندوستان میں مسلمانوں پر زمین تنگ کردی گئی ہے۔ باحجاب طالبات کو تعلیمی اداروں میں داخلے سے روکا جا رہا ہے۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ مسلم دنیا ہندوستان کی باحجاب طالبات کے لیے آواز بلند کریں۔ پاکستان کی وزارت خارجہ عالمی برادری کو ساتھ ملاکر مسلم خواتین کو حجاب سے روکنے کے خلاف آواز اٹھائے۔
وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ باحجاب خاتون ہیں وہ بھارت کی خواتین کو یکجہتی کا بھرپور پیغام دیں اور ان کے لیے عالمی سطح پر رائے عامہ ہموار کریں۔
توفیق اسکول کی پرنسپل فرحانہ نے کہا کہ پہلے یورپ میں برقعہ پر پابندی کے خلاف مہم چلائی گئی۔ اب بھارت میں بھی مسلمان خواتین کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ ان واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
حنا عبدالحسیب نے کہا کہ ایک جانب عورت کی آزادی اور ان کی مرضی کی بات کی جاتی ہے اور دوسری جانب جب مسلمان خواتین اللہ کے حکم کے مطابق اپنی مرضی سے پردہ کرتی ہیں تو ان کوزبردستی روکا جاتا ہے۔
باحجاب طالبات اور خواتین کے ساتھ یہ دہرا معیار قبول نہیں ہے۔اسما عبدالعظیم نے کہا کہ بھارت کی مسلمان خواتین ہماری بہنیں ہیں۔ ان کو پردے سے زبردستی روکنا اور ہراساں کرنے کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے۔
مزید پڑھیں: جاپان بزنس کونسل کا بھارتی طالبہ مسکان کو اسکالر شپ دینے کا اعلان
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








