کراچی: پاکستان میں رواں مالی سال کے دوران بینکوں میں رکھے گئے کل ڈپازٹس میں 21.03 فیصد کا خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔
تفصیلات کے مطابق رواں برس جنوری کے دوران بینکوں میں رکھے گئے ڈپازٹس کا حجم 27 اعشاریہ 54ٹریلین روپے تک جا پہنچا جو گزشتہ برس کے اسی مہینے میں 22اعشاریہ 75ٹریلین روپے تھا۔
اسٹیٹ بینک کے جاری کردہ اعدادوشمار سے پتہ چلتا ہے کہ عوام رواں برس بینکوں میں اپنے ڈپازٹس رکھنے کی جانب زیادہ راغب ہوئے ہیں تاہم ماہ بہ ماہ اعدادوشمار سے حقائق کسی اور سمت اشارہ کرتے ہیں۔
ماہانہ اعدادوشمار کا تجزیہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ دسمبر 2023 میں ڈپازٹس 27 اعشاریہ 84 ٹریلین تھے اور جنوری 2024 میں یہ کم ہو کر 27 اعشاریہ 54 ٹریلین روپے تک آگئے ہیں جو ایک واضح کمی ہے۔
فیصد کے اعتبار سے دیکھا جائے تو عوام کی ڈپازٹس جمع کرانے کی شرح 1.08فیصد کم ہوئی ہے، تاہم مجموعی ذخائر میں اضافہ بینکوں کی جانب سے قرض دینے میں کمی کو بھی ظاہر کرتا ہے۔
دوسری جانب کل ایڈوانسز میں سالانہ 3.74فیصد اضافہ ہوا جو 1 سال قبل کے 11.66ٹریلین روپے کے مقابلے میں جنوری 2024 میں 12اعشاریہ 09ٹریلین روپے تک جا پہنچا، جو 2.08فیصد کی کمی ہے۔
دسمبر 2023 میں ایڈوانسز کا حجم 12.35ٹریلین روپے تھا۔ ایڈوانسز ٹو ڈپازٹ ریشو (اے ڈی آر) کی شرح 43.92فیصد رہی جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 732بیسز پوائنٹس کم اور ماہانہ 45بیسز پوائنٹس کی کمی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








