مجھ سے شادی کے باوجود میری بہن سے ناجائز تعلقات، اعتراض پر برہنہ کر کے تشدد کیا، سوشل میڈیا پر سینئر سیاستدان کی سابقہ بیوی کے انکشافات کی گونج

تازہ ترین

تازہ ترین

مصطفی کھر اور تہمینہ درانی، فوٹو ایم ایم

سابق وزیر اعلیٰ پنجاب اور سابق گورنر پنجاب غلام مصطفیٰ کھر سوشل میڈیا پر اپنے ماضی کے اسکینڈلز کی وجہ سے زیر بحث آئے ہیں، جہاں ان کی سابق اہلیہ اور معروف مصنفہ تہمینہ درانی کی کتاب میں لگائے گئے الزامات پر عوامی سطح پر بحث چھڑ گئی ہے۔

فیس بک پر ماضی کے حالات و واقعات پر پوسٹس لکھنے کیلئے معروف ایک لکھاری نے غلام مصطفیٰ کھر کی سابق اہلیہ تہمینہ درانی جو اب وزیراعظم شہباز شریف کی دوسری بیگم ہیں، کی کتاب کے حوالے سے ایک چیپٹر کھولا ہے۔

کتاب کے دیے گئے اقتباس کے مطابق تہمینہ درانے نے 1991 میں شائع ہونے والی اپنی کتاب “My Feudal Lord” (اردو ترجمہ: مینڈا سائیں) میں غلام مصطفیٰ کھر کے ساتھ اپنی ازدواجی زندگی کے ایسے واقعات بیان کیے ہیں جنہیں انہوں نے تشدد، جنسی جنون اور اختیارات کے ناجائز استعمال سے تعبیر کیا ہے۔ ان کے مطابق غلام مصطفیٰ کھر کی بدزبانی، گالی گلوچ اور عورتوں کے ساتھ رویہ محض ان تک محدود نہیں رہا بلکہ ان کے اپنے خاندان کی خواتین بھی محفوظ نہیں تھیں۔

پوسٹ کے مطابق کتاب میں تہمینہ درانی نے دعویٰ کیا ہے کہ غلام مصطفیٰ کھر نے ان کی چھوٹی بہن عدیلہ کے ساتھ ناجائز تعلقات قائم کیے۔ ان کے بقول جب انہوں نے اس پر اعتراض کیا تو انہیں شدید جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور انہیں برہنہ کر کے مارا پیٹا گیا۔

تہمینہ درانی کے مطابق ان کی شادی 1976 میں غلام مصطفیٰ کھر سے ہوئی اور اس وقت پہلے سے شادی شدہ تھیں۔ تاہم مصطفی کھر نے مبینہ طور پر سیاسی طاقت اور اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے سابق شوہر سے طلاق دلوا کر ان سے شادی کی۔ یہ رشتہ تیرہ برس تک قائم رہا اور اس دوران ان کے چار بچے ہوئے، تاہم 1989 میں تہمینہ درانی نے طلاق لے لی۔

واضح رہے کہ غلام مصطفیٰ کھر پاکستانی سیاست دانوں میں سب سے زیادہ شادیاں کرنے والوں میں شمار ہوتے ہیں اور ان کے نکاح والی شادیوں کی تعداد آٹھ بتائی جاتی ہے۔

یہ الزامات تہمینہ درانی کی کتاب میں بیان کیے گئے ذاتی دعوے ہیں، جن پر غلام مصطفیٰ کھر کی جانب سے مختلف ادوار میں تردید بھی سامنے آتی رہی ہے۔ تاہم یہ کتاب پاکستان میں جاگیردارانہ نظام، طاقت کے غلط استعمال اور خواتین پر تشدد سے متعلق ایک اہم دستاویز سمجھی جاتی ہے، جس نے اپنے وقت میں شدید ردعمل اور بحث کو جنم دیا تھا۔

Related Posts