امریکہ کے متعدد علاقوں کو شدید اور جان لیوا برفانی طوفان نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے جس کے نتیجے میں معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہو گئے ہیں جبکہ مختلف حادثات کے باعث کم از کم سات افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
یہ طاقتور برفانی طوفان واشنگٹن، نیویارک، ٹیکساس، اوکلاہوما، نیوجرسی سمیت درجنوں ریاستوں میں برف باری، اولے، منجمد بارش اور انتہائی سرد ہواؤں کے ساتھ تباہی مچا رہا ہے جس سے شہری زندگی شدید مشکلات کا شکار ہے۔
شدید ترین صورتحال
طوفان کے باعث بعض علاقوں میں درجہ حرارت منفی 49 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر گیا ہے جو انسانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک تصور کیا جا رہا ہے۔
نیویارک کے کئی دیہی علاقوں میں بھاری برف باری کے باعث سڑکیں مکمل طور پر ڈھک چکی ہیں جس کے نتیجے میں ٹریفک معطل اور آمد و رفت بری طرح متاثر ہو گئی ہے۔
نقل و حمل کا نظام درہم برہم
برفانی طوفان کے باعث ملک بھر میں 16 ہزار سے زائد پروازیں منسوخ یا تاخیر کا شکار ہو چکی ہیں جس سے لاکھوں مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
سڑکوں پر برف جمنے کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی ہے اور کئی مقامات پر آمد و رفت مکمل طور پر بند کر دی گئی ہے۔
بجلی کی فراہمی اور ہنگامی صورتحال
طوفان کے نتیجے میں 80 لاکھ سے زائد صارفین بجلی سے محروم ہوچکے ہیں خاص طور پر ٹینیسی، مسیسیپی اور لوئزیانا میں بجلی کا نظام شدید متاثر ہوا ہے۔
صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر کم از کم 24 ریاستوں میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے، جبکہ وفاقی اور ریاستی حکومتوں نے ریسکیو اور امدادی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔
عوام کے لیے ہدایات
علاقائی حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلیں سفر سے گریز کریں اور حفاظتی تدابیر پر سختی سے عمل کریں۔
نیویارک سمیت کئی بڑے شہروں میں اسکولوں کو عارضی طور پر آن لائن کلاسوں تک محدود کر دیا گیا ہے تاکہ طلبہ کو شدید سردی اور ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔
برفانی طوفان نے امریکہ کے وسطی اور مشرقی حصوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
شدید سردی کے باعث شہریوں کی بڑی تعداد کو صحت کے مختلف مسائل کا سامنا ہے۔
وفاقی و ریاستی حکومتیں اور ریسکیو ادارے مکمل طور پر متحرک ہیں اور صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔
متعدد ریاستوں، لاکھوں شہریوں اور قومی بنیادی ڈھانچے کو متاثر کرنے والا یہ شدید برفانی طوفان امریکہ کے لیے ایک بڑا موسمی بحران بن چکا ہے۔ حکام نے آئندہ دنوں میں مزید سردی، برف باری اور سفری خلل کے خدشے کے پیش نظر عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کریں اور سرکاری ہدایات کو نظرانداز نہ کریں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








