عوام سے کیا گیا بڑا دھوکہ بے نقاب ہوگیا۔ سال 2025 میں چینی کتنی مہنگی ہوئی؟ اس حوالے سے ہوشربا رپورٹ سامنے آگئی ہے۔ شوگر ملز کی جانب سے شوگر ایڈوائزری بورڈ کو چینی برآمد کرنے کیلئے غلط اعدادوشمار دئیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
تفصیلات کے مطابق مسابقتی کمیشن آف پاکستان کی دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ ایف بی آر نے طلبی کے باوجود چینی کی فروخت کا ڈیٹا متعلقہ اداروں سے دور رکھا۔ گزشتہ سال مقامی سطح پر چینی کا بحران اور پھر اچانک قیمتوں میں برق رفتار اضافہ بھی شوگر ملز کی غلط بیانی کے باعث ہوا۔
مسابقتی کمیشن کی رپورٹ کے مطابق چینی کی برآمد کیلئے شوگر ایڈوائزری بورڈ کو غلط معلومات دی گئیں۔ شوگر ملز ایسوسی ایشن نے بتایا کہ گزشتہ سال 13 فیصد اضافی پیداوار ہوئی جو گمراہ کن پراپیگنڈہ تھا۔ غلط ڈیٹا کی بنیاد پر چینی برآمد کی اجازت حاصل کی گئی جبکہ 66لاکھ میٹرک ٹن چینی کی پیداوار کا تخمہنہ بھی بے بنیاد نکلا۔
رپورٹ کے مطابق چینی کی حقیقی پیداوار 57 لاکھ میٹرک ٹن کی سطح پر تھی، جو دئیے گئے اعدادوشمار کےمقابلے میں 9لاکھ میٹرک ٹن کا فرق ہے۔ شوگر ملز نے 5 لاکھ میٹرک ٹن چینی تاخیر سے برآمد کی جس کا مقصد مارکیٹ میں چینی کی مصنوعی قلت پیدا کرکے چینی مہنگی کرنا تھا۔ جنوری سے مارچ 2025 کے دوران چینی کی قیمتوں میں 16فیصد اضافہ ہوا۔
اسی طرح مارچ سے جولائی تک چینی کی قیمت میں 31فیصد اضافہ کیا گیا۔ اکتوبر تک چینی 43 فیصد مہنگی ہوئی، اس سے قبل بھی شوگر مافیا نے 50روپے فی کلو بکنے والی چینی کے دام 150روپے فی کلو تک پہنچا دئیے تھے جو چینی کی قیمت میں 3گنا تک کا اضافہ ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








