پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے ایک سینئر فلائٹ اٹینڈنٹ کے کینیڈا میں غیر ملکی قیام کے دوران غائب ہونے کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔ یہ واقعہ پاکستان کی قومی ایئرلائن کے لیے عملے کے غیر ملکی مقامات پر غائب ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کی فہرست میں ایک اور اضافہ ہے۔
ایئرلائن حکام نے کہا ہے کہ معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور اگر معلوم ہوا کہ غائب ہونا غیر قانونی یا قواعد کی خلاف ورزی تھی تو سخت کارروائی کی جائے گی۔
پی آئی اے کے حکام کے مطابق سینئر فلائٹ اٹینڈنٹ آصف نجم لاہور سے ٹورنٹو کے لیے پرواز کرنے کے بعد 16 نومبر سے غائب ہیں۔ ان کی واپسی کی پرواز 19 نومبر کو لاہور کے لیے تھی لیکن وہ ڈیوٹی کے لیے حاضر نہیں ہوئے۔ اطلاعات کے مطابق وہ ہوٹل میں 16 سے 19 نومبر کے درمیان کہیں غائب ہو گئے۔
عملے کا موقف اور ایئرلائن کی تشویش
ایئرلائن کے اہلکاروں نے آصف نجم سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ وہ طبی طور پر ٹھیک نہیں ہیں تاہم ایئرلائن کو ابھی تک ان کی صحت کی باضابطہ تصدیق موصول نہیں ہوئی ہے۔
پی آئی اے کے ترجمان نے کہا کہ یہ واقعہ زیر غور ہے اور حکام اس بات کی جانچ کر رہے ہیں کہ آیا غائب ہونا جان بوجھ کر کیا گیا تھا یا نہیں۔ ترجمان نے مزید کہاکہ اگر کسی عملے کے رکن کے غیر قانونی طور پر غائب ہونے کا ثبوت ملا تو سخت اندرونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
ایئرلائن کے لیے مسلسل مسئلہ
یہ واقعہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ پی آئی اے کو متعدد ایسے معاملات کا سامنا ہے جہاں عملہ غیر ملکی قیام کے دوران غائب ہو جاتا ہے۔ ایسے واقعات نگرانی اور احتساب کے مسائل کو اجاگر کرتے ہیں۔
اہلکاروں کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات کو روکنے کے لیے مزید سخت نگرانی اور انتظامی اقدامات متعارف کروائے جا سکتے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








