کیا واقعی الطاف حسین لندن میں انتقال کرگئے، سوشل میڈیا پر خبروں کی حقیقت کیا ہے؟

تازہ ترین

تازہ ترین

Did Altaf Hussain Really Pass Away in London? What's the Truth Behind the Social Media Buzz?
ONLINE

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے بانی و سابق قائد الطاف حسین کے انتقال سے متعلق خبریں سوشل میڈیا پر تیزی سے گردش کر رہی ہیں جنہوں نے ملک بھر میں سیاسی حلقوں اور عوامی سطح پر بے چینی کی لہر دوڑا دی ہے تاہم اب تک موصول ہونے والی مصدقہ اطلاعات ان افواہوں کی تردید کرتی ہیں۔

ایم کیو ایم کی سینٹرل سوشل میڈیا ٹیم کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ الطاف حسین کو شدید علالت کے باعث لندن کے ایک اسپتال میں داخل کیا گیا ہے، جہاں ان کے مختلف میڈیکل ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔ کارکنان، ہمدردوں اور پوری قوم سے اپیل ہے کہ وہ الطاف بھائی کی جلد صحتیابی اور درازی عمر کے لیے خصوصی دعائیں کریں۔

سوشل میڈیا پر پاکستان وائس نامی ایک اکاؤنٹ نے دعویٰ کیا کہ الطاف حسین کا انتقال ہو چکا ہے ،تاہم یہ اطلاع کسی مستند یا سرکاری ذرائع سے تصدیق شدہ نہیں ہے۔ ایم کیو ایم کے سینئر رہنما مصطفیٰ عزیزآبادی نے اس خبر کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے وضاحت کی ہے کہ الطاف بھائی اسپتال میں زیر علاج ہیں، ان کی حالت بہتر ہو رہی ہے اور ڈاکٹرز مسلسل ان کی نگرانی کر رہے ہیں۔

اسی ضمن میں بی بی سی اردو کے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر شائع خبر میں کہا گیا کہ الطاف حسین کو ’شدید علالت‘ کے باعث لندن کے اسپتال منتقل کیا گیا۔ ان کے قریبی ساتھی قاسم علی رضا کے مطابق الطاف حسین طویل عرصے سے ذہنی دباؤ، مالی مشکلات اور قانونی مسائل سے دوچار ہیں، جس کا ان کی صحت پر گہرا اثر پڑا ہے۔

ادھر مصطفیٰ عزیزآبادی نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ اللہ کے فضل و کرم اور کارکنان کی دعاؤں سے الطاف بھائی کی طبیعت اب بہتر ہو رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، کارکنان اتحاد و نظم برقرار رکھیں۔

دوسری جانب ایک سوشل میڈیا صارف لاریب فاطمہ نے اپنے ذاتی پیغام میں لکھا کہ الطاف حسین 71 برس کی عمر میں لندن میں انتقال کر گئے ہیں۔ ان کے آخری لمحات میں پارٹی کا کوئی ممبر ان کے ساتھ موجود نہیں تھا اور ان کی آخری رسومات لندن میں ادا کیے جانے کا امکان ہے۔ تاہم، اس بیان کی بھی اب تک کسی ذمہ دار ادارے یا اہلِ خانہ کی طرف سے تصدیق نہیں ہوئی۔

الطاف حسین کی صحت سے متعلق سوشل میڈیا پر موجودہ صورتحال افواہوں اور حقائق کے امتزاج کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ تصدیق شدہ معلومات کے مطابق وہ زندہ ہیں اور اسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔ تاہم، ان کی خراب صحت اور تنہائی کی خبریں کسی حد تک درست ہیں جنہیں ان کے قریبی ساتھیوں نے تسلیم کیا ہے۔

فی الحال ان کے انتقال کی اطلاعات غلط اور بے بنیاد قرار دی گئی ہیں۔ ایسے میں عوام اور میڈیا کو چاہیے کہ وہ غیر مصدقہ معلومات کو پھیلانے سے گریز کریں اور صرف مستند ذرائع سے جاری ہونے والی اطلاعات پر انحصار کریں۔

Related Posts