کیا سول ایوی ایشن نے 350ارب کا ائیرپورٹ اونے پونے داموں فروخت کردیا؟

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو: جیو)

کراچی: پاکستان سول ایوی ایشن نے مبینہ طور پر 350ارب روپے کا لاہور والٹن ائیرپورٹ 50ارب روپے میں فروخت کردیا ہے جبکہ ایوی ایشن کے اکاؤنٹ میں 1 ارب کی وصولی ہوئی۔

تفصیلات کے مطابق سول ایوی ایشن حکام نے دیہہ مریدکے کی زمین کے بدلے میں والٹن ائیرپورٹ بیچ دیا۔ کیپٹن ونگ کمانڈر (ر) محمد نواز عاصم، جنرل سیکریٹری ائیر کرافٹ اونرز اینڈ آپریٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان نے ایک خط کے ذریعے وزیر ہوا بازی سمیت دیگر حکام کو بدعنوانی سے آگاہ کردیا۔

گزشتہ روز یکم اپریل 2024 کو لکھے گئے خط میں والٹن گیٹ اسکینڈل کو لامحدود بدعنوانی قرار دیتے ہوئے کہا یگا کہ والٹن ائیرپورٹ لاہور کی اراضی کی فروخت قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی اور دھوکہ دہی کے ذریعے حاصل کی جانے والی رقم کا ایک بڑا اسکینڈل ہے۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق والٹن ائیرپورٹ لاہور کی اراضی کی قیمت کا تخمینہ 350 ارب پاکستانی روپے سے زائد ہے جسے سول ایوی ایشن اتھارٹی کے حکام نے تحریری قواعد و ضوابط اور قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مریدکے میں دیہی اراضی اور 50ارب روپے کے بدلے میں فروخت کردیا۔

سول ایوی ایشن اتھارٹی کے اکاؤنٹس میں 50ارب روپے میں سے صرف 1 ارب روپے وصول ہوئے تاہم باقی رقم کہاں گئی؟ سول ایوی ایشن حکام اس کے متعلق وضاحت کرنے سے قاصر ہیں۔ خط میں بتایا گیا کہ تاریخی ہوائی اڈے کو لینڈ مافیا نے حکومت کی ملی بھگت سے تباہ کرکے فروخت کیا ہے۔

قائد اعظم محمد علی جناح 1947 میں لاہور کے اسی ائیرپورٹ کی بدولت سرزمینِ پاکستان پر اترے۔ قیامِ پاکستان سے قبل بھی والٹن ائیرپورٹ جنرل ایوی ایشن کی سرگرمیوں کا مرکز تھا۔ جنرل سیکریٹری ائیر کرافٹ اونرز اینڈ آپریٹرز ایسوسی ایشن نے کرپشن کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے جامع تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

Related Posts