شبیر تنولی نے تنہا جرم کیا یا پورا نیٹ ورک ملوث؟ 100 بچوں کے ریپسٹ کے تہلکہ خیز انکشافات

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

کراچی کے علاقے قیوم آباد میں دو روز قبل ایک شخص کو کمسن بچوں اور بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ حکام کے مطابق ملزم کے خلاف گزشتہ ایک ہفتے میں تین مقدمات درج ہو چکے ہیں۔ مقامی عدالت نے ملزم کو پانچ روز کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔

ایس ایس پی ساؤتھ مہزور علی نے بتایا کہ ملزم 2016 سے بچیوں کو پیسوں کا لالچ دے کر انہیں اپنی ہوس کا نشانہ بناتا رہا ہے۔ پولیس نے ملزم کے قبضے سے ایک موبائل فون اور یو ایس بی برآمد کی جن میں بچیوں کے ساتھ زیادتی کی سو سے زائد ویڈیوز موجود ہیں۔

پولیس کی ابتدائی تفتیش سے پتہ چلا ہے کہ ملزم کا نام شبیر احمد تنولی ہے جو خیبر پختونخوا کے ضلع ایبٹ آباد کا رہائشی ہے۔ وہ 2011 میں ایبٹ آباد سے کراچی منتقل ہوا تھا اور 2016 میں قیوم آباد بی ایریا میں آکر شربت کا ٹھیلا لگانے لگا۔ اس کے بعد سے ہی وہ کمسن بچوں اور بچیوں (عموماً 5 سے 12 سال کی عمر کی) کو پیسوں کا لالچ دے کر اپنی ہوس کا نشانہ بناتا رہا۔ ملزم نے علاقے میں کرائے پر ایک کمرہ اور ایک دکان بھی لے رکھی تھی جہاں وہ بچوں کو بلاتا اور ان سے زیادتی کرتا۔

تفتیش کے دوران ملزم نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے کم از کم 100 بچوں اور بچیوں کے ساتھ یہ جرم کیا اور ان کے واقعات کی ویڈیوز اور تصاویر بھی بنائیں۔ اس نے ایک ڈائری بھی رکھی ہوئی تھی جس میں متاثرین کے نام اور تفصیلات درج تھیں۔

پولیس کو ملزم کے موبائل فون سے 100 سے زائد نازیبا ویڈیوز مل چکی ہیں جبکہ ایک یو ایس بی سے مزید ویڈیوز اور متاثرین کی پروفائلز برآمد ہوئیں۔ یہ تمام مواد فارنزک تجزیے کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔

ملزم کی نازیبا مواد کی تقسیم یا استعمال کے بارے میں مزید انکشافات متوقع ہیں۔ یہ واقعہ کراچی کی تاریخ کا سب سے بڑا جنسی اسکینڈل قرار دیا جا رہا ہے جس سے متاثرہ خاندانوں کی تعداد 70 کے قریب بتائی جا رہی ہے۔

Related Posts