امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں مزید فوج بھیج دی؟ وائرل ویڈیو کا بڑا راز فاش

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ اسکرین گریب)

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس کے بارے میں یہ کہا جا رہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی حالیہ کشیدگی کے دوران مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجیوں کی تعیناتی دکھائی گئی ہے تاہم اس حوالے سے کیے گئے دعوے بے بنیاد ہیں۔

درستگی کی جانچ (Rating Justification)

آئی ویریفائی پاکستان کی ٹیم نے اس وائرل مواد کا تفصیلی جائزہ لیا اور یہ نتیجہ اخذ کیا کہ یہ دعویٰ غلط ہے۔ اس کی تصدیق کے لیے ٹیم نے گوگل ریورس امیج سرچ اور متعلقہ کی ورڈز کی مدد سے ویڈیو کے اصل ماخذ کا سراغ لگایا۔

تحقیقات میں سامنے آیا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر 8 اپریل 2026 کے بعد متعدد صارفین نے ایک فوجی طیاروں کی ویڈیو کلپ شیئر کی اور یہ دعویٰ کیا کہ یہ حالیہ کشیدگی کے دوران امریکی افواج کی نئی تعیناتی کو ظاہر کرتی ہے تاہم اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو پرانی ہے اور جون 2023 کی ہے جس میں کیلیفورنیا میں ایک فوجی واپسی کی تقریب دکھائی گئی ہے نہ کہ مشرقِ وسطیٰ میں کسی نئی تعیناتی کی صورتحال۔

 

اسی دوران سفارتی سطح پر ہونے والی پسِ پردہ کوششوں کے نتیجے میں پاکستان کے کردار کی بدولت امریکہ اور ایران کے درمیان 8 اپریل 2026 کو دو ہفتوں کی جنگ بندی پر اتفاق ہوا۔ یہ پیش رفت اس بڑے علاقائی بحران کے بعد سامنے آئی جو 28 فروری کے حملوں کے بعد شدت اختیار کر گیا تھا۔

پاکستان نے اس پورے عمل میں ایک اہم سفارتی کردار ادا کیا اور دونوں فریقوں کے درمیان رابطے کو ممکن بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کوشش کے نتیجے میں عارضی جنگ بندی ممکن ہوئی، جبکہ 11 اپریل کو اسلام آباد میں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات بھی متوقع قرار دیے گئے۔

جعلی خبر کیسے وائرل ہوئی؟

رواں ماہ 8 تاریخ کو ایکس پر ایک اکاؤنٹ نے فوجی طیاروں کی لینڈنگ کی ایک ویڈیو پوسٹ کی۔ اس پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ امریکی سینٹرل کمانڈ کے زیرِ اثر خطے میں 50 ہزار سے زائد فوجی موجود ہیں اور مزید اضافہ ہو رہا ہے جبکہ میرینز کو سان ڈیاگو سے مشرقِ وسطیٰ منتقل کیا جا رہا ہے۔

یہ پوسٹ تیزی سے وائرل ہوئی اور لاکھوں افراد تک پہنچی۔ اسی طرح دیگر صارفین اور مختلف نظریاتی اکاؤنٹس نے بھی اسی ویڈیو کو مختلف دعووں کے ساتھ دوبارہ شیئر کیا اور یہ مؤقف اپنایا کہ امریکہ بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے۔ بعض پوسٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ زمینی مداخلت ناگزیر ہے۔

بعد ازاں یہی کلپ مختلف اکاؤنٹس سے مسلسل پھیلتی رہی اور مجموعی طور پر لاکھوں ویوز حاصل کیے جس کے نتیجے میں غلط معلومات مزید تیزی سے عام ہو گئیں۔

تحقیقی طریقہ کار (Methodology)

اس دعوے کی جانچ اس لیے کی گئی کیونکہ یہ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا تھا اور امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ جنگ بندی کے تناظر میں عوامی دلچسپی بھی بڑھ گئی تھی۔

ریورس امیج سرچ کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ یہی ویڈیو جون 2023 میں امریکی محکمہ دفاع کی ویڈیو سروس DVIDS پر شائع ہوئی تھی جہاں اسے ایک فوجی یونٹ کی واپسی کی تقریب کے طور پر بیان کیا گیا تھا جو کیلیفورنیا کے ایک بیس پر منعقد ہوئی تھی۔

مزید تحقیق سے یوٹیوب پر بھی اسی تاریخ کی ویڈیو ملی جس میں وہی مناظر موجود تھے جس سے واضح ہوا کہ یہ موجودہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال سے متعلق نہیں ہے۔

اس کے علاوہ کسی بھی معتبر بین الاقوامی خبر رساں ادارے بشمول رائٹرز نے اس نوعیت کی کسی نئی تعیناتی کی تصدیق نہیں کی۔ اس کے برعکس مارچ 2026 کی ایک رپورٹ میں خطے میں امریکی فوجی موجودگی میں اضافے کا ذکر ضرور تھا تاہم وہ جنگ بندی سے پہلے کی صورتحال پر مبنی تھا۔

نتیجہ (Fact-check Status)

یہ دعویٰ کہ وائرل ویڈیو میں مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجیوں کی نئی تعیناتی دکھائی گئی ہے غلط ہے۔ حقیقت میں یہ ویڈیو 6 جون 2023 کی ہے اور یہ کیلیفورنیا میں ایک فوجی واپسی کی تقریب کو ظاہر کرتی ہے نہ کہ کسی موجودہ فوجی تعیناتی کو۔

Related Posts