کھانے کے انسانی دماغ پر اثرات حیرت انگیز ہوسکتے ہیں، سائنسدانوں کا انکشاف

تازہ ترین

تازہ ترین

دماغ پر اثرات
(فوٹو: پیڈلی بلاگ)

سائنسدانوں نے انکشاف کیا ہے کہ کھانے کے انسانی دماغ پر اثرات حیرت انگیز ہوسکتے ہیں، ہم خوراک کی نالی کے ذریعے اپنے معدے تک جو غذا پہنچاتے ہیں، وہ انسانی جسم کے دیگر اعضاء کے ساتھ ساتھ دماغ کیلئے مفید یا مہلک ہوسکتی ہے۔

محققین کا ماننا ہے کہ کمزور یا غذائی اجزاء سے محروم خوراک انسانی دماغ کے ڈھانچے پر مضر اثرات مرتب کرتی ہے جس کے نتیجے میں دماغی صحت کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ سمندری خوراک کے استعمال سے انسانی دماغ کو بہتر کیاجاسکتا ہے۔

انسانی دماغ پر تحقیق کیلئے ماہرین نے 30 رضاکاروں پر مختلف تجربات کیے جس سے پتہ چلا کہ کمزور غذا انسانی دماغ پر ایسے اثرات مرتب کرتی ہے جس کے نتیجے میں دماغ دباؤ اور اضطراب (انزائٹی) کا شکار ہوکر کمزور پڑ جاتا ہے۔

محققین نے مشاہدہ کیا کہ کمزور خوراک نیو رو ٹرانسمیٹرز اور گرے میٹر کی مقدار پر بھی اثرات ڈالتی ہے جو دماغی صحت سے منسلک ہیں۔ اس قسم کی خوراک انسانی جسم میں گلوٹامیٹ کی مقدار بڑھا دیتی ہے جس سے نیوروٹرانسمیشن غیر متوازن ہوسکتی ہے۔

غیر معیاری خوراک کے باعث دماغ کے سامنے کے حصے میں گرے میٹر کم ہوسکتا ہے جس سے صحت خراب ہوسکتی ہے۔ ہائی شوگر یا فیٹ سے بھرپور غذا انسانی دماغ کے کیمیکلز پر مضر اثرات مرتب کرتی ہے جس سے انسان کا موڈ بھی ناخوشگوار ہوسکتا ہے۔

ایسی خوراک جو صحت بخش نہ ہو، انسانی دماغ کے افعال پر اثر انداز ہوتی ہے جس سے خون میں گلوکوز اور انسولین کی مقدار پر برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ہائی فیٹ کولیسٹرول سے بھرپور غذا انسانی خلیوں کی دیوار (ممبرین) کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

ضروری ہے کہ انسان اپنی دماغی صحت کو بہتر کرنے کیلئے صحت بخش اور غذائیت سے بھرپور خوراک کا استعمال کرے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اچھی خوراک انسانی دماغ کی صحت اور نتیجتاً جسمانی صحت کو بھی بہتری کی جانب گامزن کرسکتی ہے۔

Related Posts