صحافی اور یوٹیوبر مطیع اللہ جان کی جانب سے نیشنل پریس کلب کا نام استعمال کرکے 24 اپریل 2026 کو غیر ملکی صحافیوں کے اعزاز میں ایک ڈنر کا اہتمام کیا گیا جسکے بعد صحافتی حلقوں میں شدید بحث اور تنازع پیدا ہو گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق نیشنل پریس کلب نے مطیع اللہ جان سے درخواست کی تھی کہ وہ یہ ڈنر موخر کر دیں کیونکہ اسی روز وزارتِ اطلاعات و نشریات (MOIB) کی جانب سے ایک سرکاری ڈنر اور ثقافتی شام بھی منعقد کی جا رہی تھی تاہم ان درخواستوں کے باوجود انہوں نے اپنے پروگرام کو جاری رکھا۔
تقریب کے دوران ایک شیلڈ پیش کی گئی جس پر بھارتی پرچم موجود تھا۔اس موقع پر یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ یہ ڈنر نیشنل پریس کلب کی منتخب باڈی کی جانب سے منعقد کیا گیا ہے جس پر ادارے کے اندر اور باہر شدید سوالات اور تنقید سامنے آئی ہے۔
Matiullah Jan hosted a dinner for foreign journalists on 24 April 2026.
Despite the fact that he was requested by National Press Club to postpone the dinner due to dinner cum cultural evening being hosted by MOIB, he went ahead with his plans.
Worst, however, he presented a… pic.twitter.com/IZciSOWxpB— Ammar Solangi (@fake_burster) April 26, 2026
اس واقعے پر سخت ردعمل بھی سامنے آ رہا ہے جہاں بعض حلقوں کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا جا رہا ہے کہ مطیع اللہ جان کا رویہ ایک منظم پروپیگنڈا مہم کا حصہ ہے جس کا مقصد قومی اداروں کو بدنام کرنا ہے۔ ان کے مطابق خود کو نیشنل پریس کلب کا نمائندہ ظاہر کر کے غلط تاثر دینا اخلاقی دیوالیہ پن کی ایک سنگین مثال ہے۔
مطیع اللہ جان کا رویہ ایک منظم پروپیگنڈا مہم کا حصہ ہے، جس کا مقصد قومی اداروں کو بدنام کرنا ہے۔ انہوں نے خود کو نیشنل پریس کلب کا نمائندہ ظاہر کر کے جس طرح دھوکہ دہی کی، وہ اخلاقی دیوالیہ پن کی بدترین مثال ہے۔ جب تک ایسے “بہروپیوں” کے خلاف سخت کارروائی نہیں ہوگی، صحافت کا نام… https://t.co/7XCgSd5fLO
— Abu Bakar Khan PTI (@AbuBakkar_IK) April 26, 2026
اسی تناظر میں یہ مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے کہ ایسے مبینہ بہروپیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے بصورت دیگر صحافت کی ساکھ متاثر ہوتی رہے گی۔
بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ مطیع اللہ جان پر میڈیا میں کام کرنے پر پابندی عائد کی جائے، نیشنل پریس کلب سے ان کی رکنیت فوری طور پر منسوخ کی جائے اور ان کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ آئندہ کوئی شخص قومی مفادات کے خلاف اس طرح کے اقدامات نہ کرے۔
نیشنل پریس کلب یا متعلقہ فریقین کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ اور حتمی مؤقف سامنے نہیں آیا تاہم صحافتی حلقوں میں اس پر بحث اور تنقید میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








