روزگار، ترقیاتی منصوبے، کھربوں کی آمدن، جانئے ریکوڈک گولڈ پروجیکٹ کس طرح بلوچستان کی تقدیر بدل رہا ہے

تازہ ترین

تازہ ترین

ریکوڈک گولڈ مائننگ بلوچستان، فائل فوٹو

پاکستان بلوچستان میں واقع ریکوڈک کاپر گولڈ منصوبے سے آئندہ 37 برسوں میں 53 ارب ڈالر کمائے گا، جبکہ اس سے مقامی آبادی کے لیے 7 ہزار 500 روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم کو بریفنگ دیتے ہوئے حکام نے بتایا کہ منصوبے کا فنانشل کلوز اگلے ماہ متوقع ہے، جبکہ تعمیراتی کام 2028 میں شروع ہوگا۔

7.7 ارب ڈالر مالیت کے اس میگا پراجیکٹ کے پہلے مرحلے کے لیے 3.5 ارب ڈالر کی فنانسنگ درکار ہوگی، جبکہ اس کی تعمیراتی لاگت 5.6 سے 6 ارب ڈالر تک ہوگی۔ دوسرے مرحلے کی تعمیر 2032 میں شروع ہوگی جس پر 3 سے 3.6 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔ پہلے مرحلے میں سالانہ 2 لاکھ 60 ہزار ٹن تانبہ اور 3 لاکھ اونس سونا پیدا ہونے کا اندازہ ہے، جو دوسرے مرحلے میں بڑھ کر 4 لاکھ ٹن تانبہ اور 5 لاکھ اونس سونا ہوجائے گا۔

منصوبے سے مجموعی طور پر 70 ارب ڈالر کی کیش فلو متوقع ہے۔ بلوچستان حکومت کو 26 ارب ڈالر، وفاقی حکومت کو 11 ارب ڈالر، جبکہ تین سرکاری اداروں کو مجموعی طور پر 15 ارب ڈالر ملیں گے۔

اقتصادی فوائد کے ساتھ ساتھ مقامی کمیونٹی کے لیے بڑے فلاحی پروگرام بھی شامل ہیں۔ صاف پانی کی فراہمی، پرائمری اسکولوں کی اپ گریڈیشن، اور ہنر مندی کی ٹریننگ فراہم کی جائے گی۔ اب تک چاغی کے 380 نوجوان ہنر مندی کی تربیت مکمل کر چکے ہیں، جبکہ 27 طالب علموں کو بیرون ملک تعلیم کے لیے وظائف ملے ہیں۔

حکام نے یقین دہانی کرائی کہ منصوبے کے حوالے سے کوئی سیکیورٹی خدشات موجود نہیں۔ بین الاقوامی ذرائع سے 2.5 ارب ڈالر کی فنانسنگ حاصل ہوچکی ہے، جبکہ عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک، آئی ایف سی، اور امریکا و جاپان کی حکومتوں کے ساتھ مزید فنڈنگ کے لیے بات چیت جاری ہے۔

Related Posts