تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان نے جلد نئے عام انتخابات کے لیے تاریخ دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے تمام اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کا اعلان کر رکھا ہے اور ساتھ ہی وہ اسمبلیاں تحلیل کرنے کا بھی عزم ظاہر کر چکے ہیں، تاہم اس پر بظاہر عمل ہوتا نظر نہیں آ رہا اور اس کی وجہ ق لیگ کے ساتھ اس معاملے پر ہم آہنگی کا نہ ہونا ہے۔
ان کا کہنا ہے وہ ان دونوں اسمبلیوں کو تحلیل بھی کر سکتے ہیں جن میں ان کی حکومت ہے، یعنی پنجاب اور خیبر پختونخوا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس حکمتِ عملی سے وہ وفاقی حکومت کو پورے ملک میں قبل از وقت انتخابات پر مجبور کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:
کراچی میں 12سالہ بچی زیادتی کے بعد قتل
تاہم صوبہ پنجاب میں دقت یہ ہے کہ صوبے میں حکومت تو عمران خان کی جماعت کی ہے مگر وزیرِاعلی ان کی جماعت سے نہیں۔ وزیر اعلیٰ چوہدری پرویز الہی کا تعلق مسلم لیگ ق سے ہے جو پی ٹی آئی کی اتحادی جماعت ہے۔
پنجاب کی اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار وزیرِاعلٰی پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کے پاس ہے۔ کیا وہ عمران خان کے کہنے پر اسمبلی تحلیل کریں گے؟
گزشتہ ماہ جیسے ہی عمران خان نے راولپنڈی جلسے میں اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کی حکمتِ عملی کا اعلان کیا، چوہدری پرویز الٰہی نے ایک بیان میں کہا کہ وہ عمران خان کے کہنے پر اسمبلی تحلیل کرنے میں ایک منٹ کی دیر نہیں کریں گے۔
چند روز گزرنے کے بعد حال ہی میں مقامی ٹی وی چینلز پر انٹریوز کے دوران وہ اب بھی اپنے اس بیان پر قائم نظر آئے تاہم ساتھ ہی ان کے خیالات میں تبدیلی بھی دیکھنے میں آئی ہے۔
وہ سمجھتے ہیں کہ اگلے کم از کم چار ماہ سے پہلے انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو تیاری کے لیے وقت درکار ہے۔ انتخابات آئندہ برس اکتوبر سے بھی آگے جا سکتے ہیں۔
دوسری طرف حال ہی میں عمران خان اپنی جماعت کے قائدین اور کارکنان کو حلقوں میں جانے اور انتخابات کی تیاری کرنے کی ہدایات دے چکے ہیں۔
چوہدری پرویز الٰہی نے اپنے انٹرویو کے دوران یہ بھی بتایا کہ سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے انھیں پی ٹی آئی کی طرف جانے کا کہا تھا۔ اللہ نے ہمارا راستہ تبدیل کیا اور جنرل باجوہ کو بھیجا، ورنہ ہم پاکستان مسلم لیگ ن کی طرف جا رہے تھے۔
پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان حال ہی میں ایک ٹی وی انٹرویو میں یہ کہہ چکے ہیں کہ سابق آرمی چیف نے ان کی جماعت کے اتحادیوں کو ان کا ساتھ چھوڑنے کے لے دباؤ ڈالا۔ عمران خان کے مطابق اسی طرح ق لیگ کی آدھی قیادت کی پی ٹی آئی جبکہ آدھی کو اس وقت کی حزبِ اختلاف کی طرف جانے کا کہا گیا۔
اس سے قبل عمران خان کہہ چکے تھے کہ سابق آرمی چیف جنرل باجوہ کو توسیع دینا ان کی غلطی تھی۔
بظاہر پرویز الٰہی اور عمران خان تمام سیاسی معاملات پر ہم خیال نظر آتے ہیں تاہم کیا وزیرِاعلٰی پنجاب پرویز الٰہی کی جانب سے پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کے متضاد حالیہ بیانات اس جانب اشارہ کر رہے ہیں کہ دونوں اتحادیوں کے درمیان اختلافات پائے جاتے ہیں۔
اور اگر ایسا ہے تو یہ عمران خان کی جلد انتخابات کی تاریخ حاصل کرنے کی حکمتِ عملی پر اثرانداز ہو سکتا ہے، پرویز الٰہی کے تبدیل شدہ بیانات مظہر ہیں کہ وہ اسمبلی تحلیل کرنے کے حوالے سے عمران خان کی طرح جذبات میں کوئی فیصلہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ یہ معاملہ صاف طور پر دونوں جماعتوں کے اتحاد میں دراڑ کو ظاہر کر رہا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








