رمضان سے قبل ملک کے مختلف شہروں سے بھکاریوں کی کراچی پر یلغار، ایک فقیر کی یومیہ کمائی جانتے ہیں؟

تازہ ترین

تازہ ترین

Do You Know How Much a Beggar Earns Daily?
پاکستان کا معاشی حب کراچی ہر سال رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی بھکاریوں کی آماجگاہ بن جاتا ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں یہ بھکاری جوق در جوق نظر آتے ہیں، جو مختلف حربے اپنا کر عوام کی ہمدردی حاصل کرتے ہیں۔
کراچی میں بھکاریوں کی بڑی تعداد اندرونِ سندھ، جنوبی پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے مختلف علاقوں سے آتی ہے۔ اس کے علاوہ ملک کے دیگر حصوں سے بھی بھکاری ٹولیوں کی شکل میں کراچی کا رخ کرتے ہیں، جہاں زیادہ آبادی اور مخیر حضرات کی بڑی تعداد ہونے کے باعث ان کا “کاروبار” عروج پر ہوتا ہے۔
یہ بھکاری مختلف انداز میں بھیک مانگنے کے ماہر ہوتے ہیں، تو چلئے آپ کو بھکاریوں کی اقسام اور طریقےبتاتے ہیں۔
خاندانی بھکاری، پورے خاندان کے ساتھ سڑکوں پر بھیک مانگتے ہیں۔
جعلی معذور اور بیمار افراد وہیل چیئر یا پلاسٹر لگا کر ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
خواتین اور بچوں کا استعمال ، گود میں شیرخوار بچوں کو لے کر بھیک مانگی جاتی ہے۔
رمضان اسپیشل بھکاری، دینی حوالے دے کر، افطار یا زکوٰۃ کے نام پر لوگوں کو نرم دل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
جعلی فنکار اور درویش ، بعض افراد سڑکوں پر نعتیں پڑھتے، چادر بچھاتے یا جعلی بابا بن کر پیسے بٹورتے ہیں۔
یومیہ کمائی کتنی ہوتی ہے؟
رپورٹس کے مطابق ایک عام بھکاری روزانہ 1500 سے 5000 روپے تک کما سکتا ہے، جب کہ رمضان کے دوران یہ رقم دگنی یا تگنی بھی ہو سکتی ہے۔ بڑے تجارتی مراکز، مساجد، بازاروں، اور چوراہوں پر مانگنے والے بھکاریوں کی کمائی سب سے زیادہ ہوتی ہے۔
بھکاری مافیا کی سرپرستی کون کرتا ہے؟
کراچی میں بھکاری مافیا ایک منظم گروہ کے تحت کام کرتی ہے، جس میں مختلف بااثر شخصیات، جرائم پیشہ گروہ اور بعض اوقات کچھ کرپٹ پولیس اہلکار بھی ملوث ہوتے ہیں۔
ٹھیکیدار سسٹم: بعض علاقوں میں بھکاریوں کو مخصوص مقامات پر بھیک مانگنے کے لیے “ٹھیکیدار” کو روزانہ یا ہفتہ وار کمیشن دینا پڑتا ہے۔
پولیس کی سرپرستی: بعض جگہوں پر مقامی پولیس کی ملی بھگت سے یہ دھندہ جاری رہتا ہے۔
گینگ اور مافیاز: کچھ بھکاری گروہ بچوں کو اغوا کرکے یا ان سے جبری بھیک منگوا کر پیسہ کماتے ہیں۔
رمضان میں بھکاریوں کی بڑھتی سرگرمیاں
مساجد اور تراویح کے مقامات پر رش میں اضافہ
بازاروں، شاپنگ مالز اور افطار کے اوقات میں زیادہ بھکاریوں کی آمد
زکوٰۃ، فطرانہ، اور خیرات جمع کرنے کے نام پر گمراہ کن طریقے
حکومت اور ضلعی انتظامیہ اکثر رمضان میں بھکاریوں کے خلاف کارروائی کا اعلان کرتی ہے لیکن عملی طور پر اس میں کوئی نمایاں کمی دیکھنے میں نہیں آتی۔
عوام کا کہنا ہے کہ ان پیشہ ور بھکاریوں کے باعث حقیقی ضرورت مندوں کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے اور کراچی میں بھیک مانگنے کا ایک مکمل کاروباری نیٹ ورک بن چکا ہے جس پر سخت کارروائی کی ضرورت ہے۔

Related Posts