اسلام آباد: وفاقی حکومت نے 300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین اور زرعی ٹیوب ویل صارفین کو نمایاں ریلیف دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
اب یہ دونوں کیٹیگریز فیول لاگت کے زمرے میں شامل ہوں گی، جس کے تحت انہیں فیول چارج ایڈجسٹمنٹ کی بنیاد پر بجلی کے نرخوں میں کمی کا فائدہ دیا جائے گا۔ اس اقدام سے دونوں کیٹیگریز کے صارفین کے ماہانہ بلوں میں کمی متوقع ہے۔
اس سلسلے میں پاور ڈویژن نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کو خط ارسال کر دیا ہے۔ پاور ڈویژن کے حکام کے مطابق ایف سی اے صارفین کو ماہانہ کم ہونے والے فیول لاگت کا فائدہ دیا جائے گا تاکہ انہیں ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ حکومت نے جون 2015 میں 300 یونٹ والے صارفین کے لیے ایف سی اے کے اثرات ختم کر دیے تھے اور دسمبر 2010 میں زرعی ٹیوب ویل کے لیے ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں کمی کو ختم کر دیا تھا۔
دوسری جانب نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) بجلی کے نرخوں میں ممکنہ کمی کی درخواست پر سماعت کرنے والی ہے، جس کے نتیجے میں ملک بھر میں بجلی کی قیمتیں کم ہونے کا امکان ہے۔
بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے نیپرا کو درخواست دی ہے، جس میں موجودہ مالی سال کی دوسری سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے تحت ٹیرف میں 52 اعشاریہ 12 ارب روپے کی کمی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
اس درخواست میں درج ذیل مدات میں کمی شامل ہے:50 اعشاریہ 66 ارب روپے پیداواری اخراجات میں کمی،2 اعشاریہ 66 ارب روپے ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن لاسز میں کمی،2 اعشاریہ 69 ارب روپے آپریشن اور مینٹیننس اخراجات میں کمی شامل ہے۔
اگر یہ درخواست منظور ہو جاتی ہے تو اکتوبر سے دسمبر 2024 تک کے لیے بجلی کے نرخوں میں کمی کا اطلاق ہوگا اور صارفین کو ان کے بلوں میں اس کا فائدہ پہنچے گا۔
نیپرا اس درخواست کا جائزہ لینے کے بعد وفاقی حکومت کو حتمی منظوری کے لیے بھیجے گی اور منظوری کے بعد اس کمی کا نفاذ ملک بھر میں کیا جائے گا جس سے بجلی صارفین کو بڑا ریلیف ملے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








