اگر آپ میز پر بیٹھنے کے خطرات سے بچنے کے لیے کام کے اوقات کے دوران زیادہ دیر تک کھڑے ہونے کے بارے میں سوچ رہے ہیں تو یہ درست فیصلہ نہیں ہو سکتا۔
آسٹریلیا میں کی گئی ایک تحقیق کے حوالے سے العربیہ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ بیٹھنے کے بجائے طویل وقت تک کھڑے رہنا جسم کو بیٹھے رہنے والے طرز زندگی کے نقصانات سے نہیں بچاتا بلکہ حقیقی حرکت یا جسمانی تربیت کے بغیر کھڑے ہونے سے جسم میں ’خون کی روانی‘ کے نظام پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف سڈنی میں کی گئی اور سائنسی جریدے جرنل آف ایپیڈیمولوجی میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے ایک حصے کے طور پر محققین نے 83,000 برطانوی رضاکاروں سے تحریک کی پیمائش کرنے اور دل کی دھڑکن اور گردشی نظام کے افعال پر ڈیٹا اکٹھا کرنے کے لیے خصوصی الیکٹرانک آلات پہننے کو کہا۔
سات یا آٹھ سال کے بعد سامنے آنے والے نتائج سے معلوم ہوا کہ لمبے عرصے تک کھڑے رہنے سے صحت کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا بلکہ اس کے برعکس خون کے جمنے اور ویریکوز وینس جیسے دوران خون کے مسائل پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
تحقیق میں حصہ لینے والے محققین میں سے ایک نے ہیلتھ ڈے کی ویب سائٹ کو بتایا کہ”جو لوگ مستقل بنیادوں پر لمبے عرصے تک بیٹھتے ہیں ان کے برعکس دن بھر مسلسل حرکات و سکنات کرنے اور جسمانی مشقیں کرنے والوں کے دل اور شریانوں کی بیماریاں سے بچاؤ میں مدد ملتی ہے، لیکن جو لوگ صرف کھڑے رہتے ہیں اور کوئی حرکت نہیں کرتے تو اس سے انہیں کوئی فائدہ نہیں ہوتا”۔
محقق نے مشورہ دیا کہ نقل و حرکت کے مقصد کے لیے دن بھر آرام کریں۔ پھر جسمانی سرگرمی کے کام کریں جیسے کہ پیدل چلنا یا سیڑھیاں چڑھنا وغیرہ۔ ایسی سرگرمیوں سے دل کی دل اور شریانیوں کی بیماریوں سے بچاؤ میں ملتی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








