جسٹس یحییٰ آفریدی کو خصوصی پارلیمانی کمیٹی نے دوتہائی اکثریت سے چیف جسٹس نامزد کردیا ہے۔
12 رکنی خصوصی پارلیمانی کمیٹی کا بند کمرہ اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس کے کمیٹی روم 5 میں ہو رہا ہے۔ سنی اتحاد کونسل کے 3 ارکان علی ظفر، بیرسٹر گوہر اور حامد رضا نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا ہے۔
اجلاس میں راجہ پرویزاشرف، فاروق ایچ نائیک،سید نوید قمر،کامران مرتضیٰ، رعنا انصار، احسن اقبال، شائشتہ پرویز ملک، اعظم نذیر تارڑ اور خواجہ آصف شریک ہوئے۔
کمیٹی میں چیف جسٹس کی تقرری کے لیے سیکرٹری قانون کے بھیجےگئے 3 ججز کے نام پیش کردیےگئے۔ دوران اجلاس جے یو آئی کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے سنی اتحاد کونسل کے رہنماؤں سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور اجلاس میں شرکت کی دعوت دی تاہم سنی اتحاد کونسل کے ممبران نے اجلاس میں شرکت سے انکار کردیا۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ ہمیں سنی اتحاد کونسل کے اراکین کو منانا چاہیے، جمہوریت کا حسن ہے کہ اپوزیشن کو منایا جائے، 4 اراکین سنی اتحاد کونسل کے پاس جائیں اور ان کو منا کرلائیں۔ اس کے بعد اجلاس میں وقفہ کردیا گیا ۔
چار رکنی کمیٹی کے سنی اتحاد کونسل سے مذاکرات ناکام ہوگئے اور سنی اتحاد کونسل نے پارلیمانی کمیٹی برائے چیف جسٹس تقرری میں شرکت کرنے سے انکار کردیا۔ نئے چیف جسٹس کی تعیناتی کے حوالے سے اسپیکر چیمبر میں بھی اجلاس ہوا، مذاکراتی عمل کے لیے اسپیکر نے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کو بلایا۔ 4 رکنی کمیٹی نے پی ٹی آئی چیئرمین کو مشاورت کے لیےکمیٹی میں آنےکی درخواست کی تاہم بیرسٹرگوہر نےکمیٹی اجلاس میں شرکت سے معذرت کرلی، جس پر کمیٹی نے دو تہائی اکثریت سے جسٹس یحیٰ آفریدی کو نامزد کر دیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








