آپ بھی چینی چھوڑنا چاہتے ہیں؟ 6 ہفتوں تک چینی چھوڑنے پر بی بی سی رپورٹر میلیسا کا حال کیا ہوا؟

تازہ ترین

تازہ ترین

چینی
(فوٹو: آن لائن)

بی بی سی کی ہیلتھ اور سائنس رپورٹر میلیسا ہوگن بوم نے خود پر تجربہ کرتے ہوئے 6 ہفتوں تک ریفائنڈ چینی چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ ان کے مطابق شکر (چینی) ان کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہے اور وہ خود بھی روزانہ چاکلیٹ کھاتی تھیں۔

انہوں نے بتایا کہ صحت سے متعلق رپورٹنگ کرتے ہوئے انہیں احساس ہوا کہ زیادہ میٹھا خاص طور پر ریفائنڈ شکر والی اشیا ان کی صحت کیلئے مناسب نہیں۔ اس لیے انہوں نے خود کو چیلنج دیا کہ چھ ہفتوں تک میٹھے اور شکر سے بنی اشیا سے مکمل پرہیز کریں۔

میلیسا کا کہنا ہے کہ ابتدا میں یہ مشکل لگا لیکن کچھ عرصے بعد میٹھے کی خواہش کم ہوتی گئی۔ چھ ہفتوں کے بعد انہوں نے توانائی میں اضافہ، جسم میں چستی اور ذہنی سکون میں بہتری محسوس کی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اب کم شکر والی چیزیں بھی انہیں میٹھی محسوس ہوتی ہیں اور میٹھے کی روزانہ خواہش تقریباً ختم ہو گئی ہے۔

چینی کا زائد استعمال مضر کیسے؟

شکر کا زیادہ استعمال دانتوں کیلئے نقصان دہ ہونے کے ساتھ جسم میں انسولین مزاحمت پیدا کر سکتا ہے، جو طویل مدت میں ذیابیطس، موٹاپے اور ذہنی مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔ میلیسا کے تجربے کے مطابق شکر چھوڑنے سے توانائی کی سطح بہتر ہوئی، جسم زیادہ متحرک محسوس ہوا اور ذہنی سکون میں اضافہ ہوا۔

اس کے علاوہ میٹھے کی لت میں کمی آئی اور قدرتی مٹھاس جیسے پھل اور خشک میوہ جات سے بھی توانائی حاصل ہونے لگی۔ کم شکر والی غذا نے ان کی مجموعی صحت، موڈ اور روزمرہ کارکردگی پر مثبت اثر ڈالا۔

روز کتنی چینی استعمال کرنا درست ہے؟

امریکی طبی ہدایات کے مطابق روزانہ 50 گرام (تقریباً 12 چمچ) سے کم شکر لینے کی سفارش کی جاتی ہے جبکہ برطانیہ کی این ایچ ایس 30 گرام (7 چمچ) سے کم شکر کا مشورہ دیتی ہے، لیکن حقیقت میں لوگ اس سے کہیں زیادہ شکر استعمال کرتے ہیں۔

چھ ہفتوں کے دوران میلیسا نے محسوس کیا کہ شکر بہت سی خوراکوں میں چھپی ہوتی ہے، جس کی وجہ سے اسے ترک کرنا چیلنج بن جاتا ہے۔ تاہم انہوں نے صحت مند متبادل تلاش کیے، میٹھے کی طلب کو کم کیا اور قدرتی غذاؤں کی طرف رجوع کیا۔ ان کے مطابق شکر چھوڑنا مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں، اور اس سے صحت پر واضح مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

Related Posts